(١٨٥٠١) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ فُورَکَ رَحِمَہُ اللَّہِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا الأَسْوَدُ بْنُ شَیْبَانَ عَنْ یَزِیدَ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الشِّخِّیرِ عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الشِّخِّیرِ قَالَ کَانَ الْحَدِیثُ یَبْلُغُنِی عَنْ أَبِی ذَرٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَکُنْتُ أَشْتَہِی لِقَائَ ہُ فَلَقِیتُہُ فَقُلْتُ : یَا أَبَا ذَرٍّ إِنَّہُ کَانَ یَبْلُغُنِی عَنْکَ الْحَدِیثَ فَکُنْتُ أَشْتَہِی لِقَائَ کَ قَالَ : لِلَّہِ أَبُوکَ فَقَدْ لَقِیتَ فَہَاتِ فَقُلْتُ : حَدِیثٌ بَلَغَنِی أَنَّکَ تُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - حَدَّثَکُمْ : إِنَّ اللَّہَ تَعَالَی یُحِبُّ ثَلاَثَۃً وَیُبْغِضُ ثَلاَثَۃً ۔ قَالَ : مَا إِخَالُنِی أَنْ أَکْذِبَ عَلَی خَلِیلِی - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قُلْتُ : فَمَنِ الثَّلاَثَۃُ الَّذِینَ یُحِبُّ اللَّہُ ؟ قَالَ : رَجُلٌ لَقِیَ الْعَدُوَّ فَقَاتَلَ وَإِنَّکُمْ لَتَجِدُّونَ ذَلِکَ فِی الْکِتَابِ عِنْدَکُمْ {إِنَّ اللَّہَ یُحِبُّ الَّذِینَ یُقَاتِلُونَ فِی سَبِیلِہِ صَفًّا } [الصف ٤] قُلْتُ : وَمَنْ ؟ قَالَ : رَجُلٌ لَہُ جَارُ سَوْئٍ فَہُوَ یُؤْذِیہِ فَیَصْبِرُ عَلَی أَذَاہُ فَیَکْفِیہِ اللَّہُ إِیَّاہُ بِحَیَاۃٍ أَوْ مَوْتٍ ۔ قَالَ : وَمَنْ ؟ قَالَ : رَجُلٌ کَانَ مَعَ قَوْمٍ فِی سَفَرٍ فَنَزَلُوا فَعَرَّسُوا وَقَدْ شَقَّ عَلَیْہِمُ الْکَرَی وَالنُّعَاسُ وَوَضَعُوا رُئُ وسَہُمْ فَنَامُوا وَقَامَ فَتَوَضَّأَ فَصَلَّی رَہْبَۃً لِلَّہِ وَرَغْبَۃً إِلَیْہِ ۔ قُلْتُ : فَمَنِ الثَّلاَثَۃُ الَّذِینَ یُبْغِضُ ؟ قَالَ : الْبَخِیلُ الْمَنَّانُ وَالْمُخْتَالُ الْفَخُورُ وَإِنَّکُمْ لَتَجِدُونَ ذَلِکَ فِی کِتَابِ اللَّہِ {إِنَّ اللَّہَ لاَ یُحِبُّ کُلَّ مُخْتَالٍ فَخُورٍ } [لقمان ١٨] قَالَ : فَمَنِ الثَّالِثُ ؟ قَالَ : التَّاجِرُ الْحَلاَّفُ أَوِ الْبَائِعُ الْحَلاَّفُ ۔ [صحیح۔ اخرجہ الطیالسی ٤٦٨]
(١٨٥٠١) مطرف بن عبداللہ بن سخیر فرماتے ہیں کہ یہ حدیث مجھے ابو ذر سے ملی اور میں ان سے ملاقات کا شوق رکھتا تھا۔ جب میری ملاقات ہوئی تو میں نے کہا : اے ابوذر ! آپ سے یہ حدیث ملی تھی اور ملاقات کا شوق بھی تھا تو انھوں نے کہا : تیرے باپ کے لیے خرابی ہو۔ اب ملے ہیں تو بتاؤ۔ میں نے کہا : آپ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : اللہ تین چیزوں کو پسند اور تین سے بغض رکھتے ہیں۔ کہتے ہیں میرا خیال نہیں کہ میں اپنے دوست پر جھوٹ بولوں۔ میں نے کہا : وہ کون تین اشیاء ہیں جن کو اللہ پسند کرتے ہیں ؟ فرمایا : 1 کسی شخص کا دشمن سے قتال کرنا جیسے اللہ کی کتاب میں موجود ہے۔ { اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الَّذِیْنَ یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِہٖ صَفًّا کَاَنَّہُمْ بُنیَانٌ مَّرْصُوصٌ} [الصف ٤] کہ اللہ ان لوگوں سے محبت رکھتا ہے جو اس کے راستہ میں صف باندھ کر جہاد کرتے ہیں۔
میں نے پوچھا : دوسرا کون شخص ؟ فرماتے ہیں کہ وہ شخص جو اپنے برے ہمسائے کی تکالیف پر صبر کرتا ہے تو اللہ اس کو زندگی کے اندر یا موت کے بعد اس کا بدلہ دے گا۔ تیسرا بندہ کون ہے ؟ آپ نے فرمایا : وہ شخص جو لوگوں کے ساتھ سفر میں شامل ہوتا ہے لوگ پڑاؤ کرتے وقت سو جاتے ہیں لیکن یہ اللہ کے ڈر اور رغبت سے وضو کر کے نماز کے لیے کھڑا ہوجاتا ہے۔ وہ تین آدمی کون سے ہیں جن سے اللہ بغض رکھتا ہے ؟ 1 بخیل احسان جتانے والا۔ 2 فخر کرنے والا متکبر۔ 3 یہ بھی اللہ کی کتاب میں موجود ہے۔ { اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ کُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرٍ } کہ اللہ متکبر فخر کرنے والے سے محبت نہیں کرتے۔ [لقمان ١٨] اس نے کہا : تیسرا شخص کون ہے ؟ فرمایا : قسمیں اٹھانے والا تاجر یا قسمیں اٹھا کر سامان فروخت کرنے والا۔