(١٨٥٠٢) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ ہُوَ الأَصَمُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی اللَّیْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی حَبِیبٍ عَنْ أَبِی الْخَیْرِ عَنْ أَبِی الْخَطَّابِ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالَ عَامَ تَبُوکٍ خَطَبَ النَّاسَ وَہُوَ مُضِیفٌ ظَہْرَہُ إِلَی نَخْلَۃٍ فَقَالَ : أَلاَ أُخْبِرُکُمْ بِخَیْرِ النَّاسِ وَشَرِّ النَّاسِ إِنَّ مِنْ خَیْرِ النَّاسِ رَجُلاً عَمِلَ فِی سَبِیلِ اللَّہِ عَلَی ظَہْرِ فَرَسِہِ أَوْ عَلَی ظَہْرِ بَعِیرِہِ أَوْ عَلَی قَدَمَیْہِ حَتَّی یَأْتِیَہُ الْمَوْتُ وَإِنَّ مِنْ شَرِّ النَّاسِ رَجُلاً فَاجِرًا جَرِیئًا یَقْرَأُ کِتَابَ اللَّہِ لاَ یَرْعَوِی إِلَی شَیْئٍ مِنْہُ ۔ [ضعیف ]
(١٨٥٠٢) حضرت ابو سعید خدری (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے غزوہ تبوک میں لوگوں کو کھجور کے ساتھ ٹیک لگا کر خطبہ ارشاد فرمایا کہ میں تمہیں بہترین اور بدترین لوگ نہ بتاؤں ؟ بہتر انسان وہ ہے جو گھوڑے یا اونٹ یا پیادہ موت تک اللہ راستہ میں جہاد کرتا ہے اور بدترین شخص فاجر جری جو کتاب اللہ کی تلاوت کرتا ہے لیکن کوئی چیز اس سے حاصل نہیں کرتا۔