(١٨٥٠٣) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو الأَزْہَرِ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِیُّ عَنْ ہِشَامِ بْنِ سَعْدٍ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأُمَوِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی ہِشَامُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ أَبِی ہِلاَلٍ عَنِ ابْنِ أَبِی ذُبَابٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّ رَجُلاً مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - مَرَّ بِشِعْبٍ فِیہِ عُیَیْنَۃٌ مِنْ مَائٍ عَذْبٍ فَأَعْجَبَہُ طِیبُہُ وَحُسْنُہُ فَقَالَ : لَوِ اعْتَزَلْتُ النَّاسَ وَأَقَمْتُ فِی ہَذَا الشِّعْبِ ثُمَّ قَالَ : لاَ أَفْعَلُ حَتَّی أَسْتَأْمِرَ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَذَکَرَ ذَلِکَ لِرَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَقَالَ : لاَ تَفْعَلْ فَإِنَّ مُقَامَ أَحَدِکُمْ فِی سَبِیلِ اللَّہِ أَفْضَلُ مِنْ صَلاَتِہِ فِی أَہْلِہِ سِتِّینَ عَامًا أَلاَ تُحِبُّونَ أَنْ یَغْفِرَ اللَّہُ لَکُمْ وَیُدْخِلَکُمُ الْجَنَّۃَ اغْزُوا فِی سَبِیلِ اللَّہِ مَنْ قَاتَلَ فِی سَبِیلِ اللَّہِ فُوَاقَ نَاقَۃٍ وَجَبَتْ لَہُ الْجَنَّۃُ ۔ [حسن ]
(١٨٥٠٣) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ صحابہ میں سے ایک شخص ایک گھاٹی کے پاس سے گزرا جس میں میٹھے پانی کا چشمہ تھا تو اس کی خوشبو اور خوبصورتی اس کو اچھی لگی۔ اس نے کہا : اگر میں لوگوں سے الگ ہو کر یہاں بیٹھ جاؤں۔ لیکن پہلے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مشورہ کروں گا۔ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے بیان کیا تو آپ نے ایسا کرنے سے منع کردیا اور فرمایا : اللہ کے راستہ میں جہاد کرنا گھر میں ٦٠ سال کی عبادت سے بہتر ہے۔ کیا تم پسند نہیں کرتے کہ اللہ تمہارے گناہ معاف کر کے جنت میں داخل کر دے ! اللہ کے راستہ میں جہاد کرو، جس نے اونٹنی کا دودھ دوہنے کے وقت کے برابر اللہ کے راستہ میں جہاد کیا اس کے لیے جنت واجب ہے۔