(١٨٥٣٤) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو النَّضْرِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ الإِمَامُ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ الأَنْصَارِیُّ وَأَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ جَعْفَرٍ الْعَطَّارُ الْحِیرِیُّ وَأَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْفَارِسِیُّ قَالُوا أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَلِیٍّ قَالاَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی طَلْحَۃَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - کَانَ یَدْخُلُ عَلَی أُمِّ حَرَامٍ بِنْتِ مِلْحَانَ فَتُطْعِمُہُ وَکَانَتْ أُمُّ حَرَامٍ تَحْتَ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ فَدَخَلَ عَلَیْہَا رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَوْمًا فَأَطْعَمَتْہُ ثُمَّ جَلَسَتْ تَفْلِی رَأْسَہُ فَنَامَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - ثُمَّ اسْتَیْقَظَ وَہُوَ یَضْحَکُ قَالَتْ فَقُلْتُ : مَا یُضْحِکُکَ یَا رَسُولَ اللَّہِ ؟ فَقَالَ : نَاسٌ مِنْ أُمَّتِی عُرِضُوا عَلَیَّ غُزَاۃً فِی سَبِیلِ اللَّہِ یَرْکَبُونَ ثَبَجَ ہَذَا الْبَحْرِ مُلُوکًا عَلَی الأَسِرَّۃِ أَوْ مِثْلَ الْمُلُوکِ عَلَی الأَسِرَّۃِ ۔ یَشُکُّ أَیَّہُمَا قَالَ قَالَتْ فَقُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ ادْعُ اللَّہَ أَنْ یَجْعَلَنِی مِنْہُمْ فَدَعَا لَہَا ثُمَّ وَضَعَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - رَأْسَہُ فَنَامَ ثُمَّ اسْتَیْقَظَ وَہُوَ یَضْحَکُ قَالَتْ فَقُلْتُ : مَا یُضْحِکُکَ یَا رَسُولَ اللَّہِ قَالَ : نَاسٌ مِنْ أُمَّتِی عُرِضُوا عَلَیَّ غُزَاۃً فِی سَبِیلِ اللَّہِ ۔ کَمَا قَالَ فِی الأُولَی قَالَتْ فَقُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ ادْعُ اللَّہَ أَنْ یَجْعَلَنِی مِنْہُمْ قَالَ : أَنْتِ مِنَ الأَوَّلِینَ ۔ فَرَکِبَتِ أُمُّ حَرَامٍ بِنْتُ مِلْحَانَ الْبَحْرَ فِی زَمَنِ مُعَاوِیَۃَ فَصُرِعَتْ عَنْ دَابَّتِہَا حِینَ خَرَجَتْ مِنَ الْبَحْرِ فَہَلَکَتْ ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی وَرَوَاہُ الْبُخَارِیُّ عَنْ إِسْمَاعِیلَ وَغَیْرِہِ عَنْ مَالِکٍ ۔
(١٨٥٣٤) حضرت انس بن مالک (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ام حرام بنت ملحان کے پاس کھانے کے لیے تشریف لائے اور ام حرام عبادہ بن صامت کے نکاح میں تھیں۔ ایک دن آپ اس کے پاس آئے تو وہ کھانا کھلانے کے بعد سر سے جوئیں نکالنے بیٹھ گئی۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سونے کے بعد بیدار ہوئے تو مسکرا رہے تھے۔ کہتی ہیں : میں نے کہا : آپ کو کس بات نے ہنسادیا ؟ اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ نے فرمایا : میری امت کے لوگ اللہ کے راستہ میں جہاد کرتے ہوئے میرے سامنے پیش کیے گئے۔ وہ سمندر کے درمیان سواری کرتے ہیں، جیسے بادشاہ تختوں پر۔ راوی کہتے ہیں کہ ام حرام نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! دعا کردیں کہ میں بھی ان میں سے ہوجاؤں آپ نے دعا کردی۔ پھر آپ سونے کے بعد بیدار ہوئے تو مسکرا رہے تھے۔ فرماتی ہیں : میں نے کہا : آپ کو کسی چیز نے ہنسادیا ؟ فرمایا : میری امت کے لوگ غزوہ کرتے ہوئے میرے سامنے پیش کیے گئے جیسے پہلی مرتبہ تھے۔ انھوں نے دوبارہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے دعا کی درخواست کردی کہ اسے ان میں شمار کیا جائے۔ آپ نے فرمایا : تو پہلے لوگوں میں سے ہے۔ معاویہ (رض) کے دور میں ام حرام نے سمندر کا سفر کیا جب سمندر سے نکلی تو چوپائے کی سواری سے گرنے کی وجہ سے وفات پا گئیں۔