(١٨٥٣٧) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ بْنُ شَرِیکٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا بَقِیَّۃُ عَنِ ابْنِ ثَوْبَانَ عَنْ أَبِیہِ یَرُدُّہُ إِلَی مَکْحُولٍ إِلَی ابْنِ غَنْمٍ الأَشْعَرِیِّ أَنَّ أَبَا مَالِکٍ الأَشْعَرِیِّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَقُولُ : إِنَّ اللَّہَ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ مَنِ انْتَدَبَ خَارِجًا فِی سَبِیلِ اللَّہِ ابْتِغَائَ وَجْہِہِ وَتَصْدِیقَ وَعْدِہِ وَإِیمَانًا بِرِسَالاَتِہِ عَلَی اللَّہِ ضَامِنٌ فَإِمَّا یَتَوَفَّاہُ اللَّہُ فِی الْجَیْشِ بِأَیِّ حَتْفٍ شَائَ فَیُدْخِلُہُ الْجَنَّۃَ وَإِمَّا یَسِیحُ فِی ضَمَانِ اللَّہِ وَإِنْ طَالَتْ غَیْبَتُہُ ثُمَّ یَرُدُّہُ إِلَی أَہْلِہِ سَالِمًا مَعَ مَا نَالَ مِنْ أَجْرٍ وَغَنِیمَۃٍ ۔ قَالَ : وَمَنْ فَصَلَ فِی سَبِیلِ اللَّہِ فَمَاتَ أَوْ قُتِلَ یَعْنِی فَہُوَ شَہِیدٌ أَوْ وَقَصَہُ فَرَسُہُ أَوْ بَعِیرُہُ أَوْ لَدَغَتْہُ ہَامَّۃٌ أَوْ مَاتَ عَلَی فِرَاشِہِ بِأَیِّ حَتْفٍ شَائَ اللَّہُ فَإِنَّہُ شَہِیدٌ وَلَہُ الْجَنَّۃُ ۔
(١٨٥٣٧) ابومالک اشعری (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا، آپ فرماتے ہیں : جو شخص اللہ کے راستے میں جہاد کے لیے نکلتا ہے اللہ کی رضا مندی کی تلاش، اس کے وعدے کی تصدیق اور اس کے رسولوں پر ایمان لانے کی وجہ سے تو اللہ رب العزت اس بندے کا ضامن ہے کہ اللہ اس کو لشکر میں جس طرح بھی موت دے۔ اس کو جنت میں داخل کرلے گا۔ وہ اللہ کی ضمانت میں ہی رہے گا۔ اگرچہ وہ زیادہ دیر غائب رہے۔ پھر اللہ رب العزت اس کو اس کے گھر صحیح سلامت اور اجر وثواب اور مال غنیمت کے ساتھ واپس کرے گا۔ راوی کہتے ہیں : جو اللہ کے راستہ میں فوت ہوجائے یا شہید ہوجائے یا اس کا گھوڑا یا اونٹ گرادے یا کوئی زیریلی چیز ڈس لے یا اپنے بستر پر ہی فوت ہوجائے یہ شہید ہے اور اس کے لیے جنت ہے۔