(١٨٥٣٨) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْبَزَّازُ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا سِمَاکُ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا أَبُو مُسْہِرٍ : عَبْدُ الأَعْلَی بْنُ مُسْہِرٍ الْغَسَّانِیُّ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنِی الأَوْزَاعِیُّ حَدَّثَنِی سُلَیْمَانُ بْنُ حَبِیبٍ عَنْ أَبِی أُمَامَۃَ الْبَاہِلِیِّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالَ : ثَلاَثَۃٌ کُلُّہُمْ ضَامِنٌ عَلَی اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ رَجُلٌ خَرَجَ غَازِیًا فِی سَبِیلِ اللَّہِ فَہُوَ ضَامِنٌ عَلَی اللَّہِ حَتَّی یَتَوَفَّاہُ فَیُدْخِلَہُ الْجَنَّۃَ أَوْ یَرُدَّہُ بِمَا نَالَ مِنْ أَجْرٍ أَوْ غَنِیمَۃٍ وَرَجُلٌ رَاحَ إِلَی الْمَسْجِدِ فَہُوَ ضَامِنٌ عَلَی اللَّہِ حَتَّی یَتَوَفَّاہُ فَیُدْخِلَہُ الْجَنَّۃَ أَوْ یَرُدَّہُ بِمَا نَالَ مِنْ أَجْرٍ أَوْ غَنِیمَۃٍ وَرَجُلٌ دَخَلَ بَیْتَہُ بِسَلاَمٍ فَہُوَ ضَامِنٌ عَلَی اللَّہِ ۔ [صحیح ]
(١٨٥٣٨) ابوامامہ باہلی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل فرماتے ہیں کہ تین شخصوں کا اللہ ضامن ہے : ایسا شخص جو جہاد کے لیے نکلتا ہے تو اللہ اس کی ضمانت دیتے ہیں کہ اسے فوت کرکے جنت میں داخل کرلے یا ایسے شخص کو ثواب یا مال غنیمت کے ساتھ واپس کریں اور ایسا شخص جو مسجد جاتا ہے تو اللہ کے ذمے ہے کہ موت کے بعد اس کو جنت میں داخل کرے یا ثواب یا مال غنیمت دے کر واپس کرے۔ اور وہ آدمی جو اپنے گھر میں سلام کہہ کر داخل ہوتا ہے۔ اس کا بھی اللہ ضامن ہے۔