(١٨٦٥٧) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِسْکِینٍ الْیَمَامِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ حَسَّانَ حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ أَنْبَأَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِی ہِنْدٍ عَنْ قُشَیْرِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ بَجَالَۃَ بْنِ عَبَدَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ : جَائَ رَجُلٌ مِنَ الأَسْبَذِیِّینَ مِنْ أَہْلِ الْبَحْرَیْنِ وَہُمْ مَجُوسُ أَہْلِ ہَجَرَ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَمَکَثَ عِنْدَہُ ثُمَّ خَرَجَ فَسَأَلْتُہُ مَا قَضَی اللَّہُ وَرَسُولُہُ فِیکُمْ ؟ قَالَ : شَرًّا قُلْتُ : مَہْ قَالَ الإِسْلاَمُ أَوِ الْقَتْلُ ۔ قَالَ وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَبِلَ مِنْہُمُ الْجِزْیَۃَ ۔
قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا : وَأَخَذَ النَّاسُ بِقَوْلِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ وَتَرَکُوا مَا سَمِعْتُ أَنَا مِنَ الأَسْبَذِیِّ ۔
قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ : نِعْمَ مَا صَنَعُوا تَرَکُوا رِوَایَۃَ الأَسْبَذِیِّ الْمَجُوسِیِّ وَأَخَذُوا بِرِوَایَۃِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَلَی أَنَّہُ قَدْ یَحْکُمُ بَیْنَہُمْ بِمَا قَالَ الأَسْبَذِیُّ ثُمَّ یَأْتِیہِ الْوَحْیُ بِقَبُولِ الْجِزْیَۃِ مِنْہُمْ فَیَقْبَلُہَا کَمَا قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَاللَّہُ أَعْلَمُ ۔ [ضعیف ]
(١٨٦٥٧) بجالہ بن عبدہ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) سینقل فرماتے ہیں کہ ایک بحرین کا شخص جو ہجر کے مجوس میں سے تھا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا۔ آپ کے پاس ٹھہرا رہا ۔ پھر اس کے نکلنے کے بعد میں نے اس سے پوچھا کہ تمہارے بارے اللہ ورسول نے کیا فیصلہ فرمایا ہے ؟ اس نے کہا : برا۔ میں نے کہا : کیا۔ اس نے کہا : اسلام قبول کرو یا قتل۔
راوی کہتے ہیں کہ حضرت عبد الرحمن بن عوف (رض) فرماتے ہیں کہ آپ نے ان سے جزیہ قبول کرلیا تھا۔
(ب) حضرت عبداللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ لوگوں نے عبد الرحمن بن عوف (رض) کی بات قبول کی لیکن جو میں نے ایک اسبذی سے سنا تھا اس کو ترک کردیا۔
شیخ فرماتے ہیں : انھوں نے اسبزی مجوسی کی بات کو چھوڑ کر حضرت عبد الرحمن بن عوف (رض) کی بات کو قبول کیا ہے، کیونکہ اس سے بات چیت کے بعد وحی آئی جس کی بنا پر آپ نے جزیہ قبول فرمایا۔