hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 18664

.

سنن البيهقي

18664
Sunan Al Bayhaqi
(١٨٦٥٨) وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَنْبَأَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ عَتَّابٍ الْعَبْدِیُّ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الْمُغِیرَۃِ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی أُوَیْسٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ عُقْبَۃَ عَنْ عَمِّہِ مُوسَی بْنِ عُقْبَۃَ قَالَ قَالَ ابْنُ شِہَابٍ حَدَّثَنِی عُرْوَۃُ بْنُ الزُّبَیْرِ أَنَّ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَۃَ أَخْبَرَہُ : أَنَّ عَمْرَو بْنَ عَوْفٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَہُوَ حَلِیفُ بَنِی عَامِرِ بْنِ لُؤَیٍّ کَانَ شَہِدَ بَدْرًا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - أَخْبَرَہُ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بَعَثَ أَبَا عُبَیْدَۃَ بْنَ الْجَرَّاحِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ إِلَی الْبَحْرَیْنِ یَأْتِی بِجِزْیَتِہَا وَکَانَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - ہُوَ صَالَحَ أَہْلَ الْبَحْرَیْنِ وَأَمَّرَ عَلَیْہِمُ الْعَلاَئَ بْنَ الْحَضْرَمِیِّ فَقَدِمَ أَبُو عُبَیْدَۃَ بِمَالٍ مِنَ الْبَحْرَیْنِ فَسَمِعَتِ الأَنْصَارُ بِقُدُومِہِ فَوَافَتْ صَلاَۃَ الصُّبْحِ مَعَ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَلَمَّا انْصَرَفَ تَعَرَّضُوا لَہُ فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - حِینَ رَآہُمْ وَقَالَ : أَظُنُّکُمْ سَمِعْتُمْ بِقُدُومِ أَبِی عُبَیْدَۃَ وَإِنَّہُ جَائَ بِشَیْئٍ ۔ فَقَالُوا : أَجَلْ یَا رَسُولَ اللَّہِ فَقَالَ : أَبْشِرُوا وَأَمِّلُوا مَا یَسُرُّکُمْ فَوَاللَّہِ مَا الْفَقْرَ أَخْشَی عَلَیْکُمْ وَلَکِنْ أَخْشَی عَلَیْکُمْ أَنْ تُبْسَطَ الدُّنْیَا عَلَیْکُمْ کَمَا بُسِطَتْ عَلَی مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ فَتَنَافَسُوہَا وَتُلْہِیَکُمْ کَمَا أَلْہَتْہُمْ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی أُوَیْسٍ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
(١٨٦٥٨) عمرو بن عوف جو بنو عامر بن لوی کے حلیف اور بدری صحابی ہیں۔ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابو عبیدہ بن جراح کو بحرین کے مجوس سے جزیہ لینے کے لیے روانہ کیا اور بحرین کے امیرعلاء بن حضرمی تھے جن کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صلح کے بعد مقرر فرمایا تھا۔ جب ابو عبیدہ بحرین سے مال لیکر آئے اور انصار کو ان کے آنے کی خبر ملیتو انھوں نے صبح کی نماز آپ کے ساتھ مکمل کی اور آپ کے درپے ہوگئے تو آپ ان کو دیکھ کر مسکرائے اور فرمایا : تمہیں ابو عبیدہ کے مال لانے کی خبر ملی ہوگی ؟ انھوں نے کہا اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ نے صحیح فرمایا۔ فرمایا : خوشخبری حاصل کرو جو تمہیں خوش کر دے گی مجھے تمہاری فقیری کا ڈر نہیں۔ لیکن تمہاری دنیا کی خوشحالی سے ڈرتا ہوں۔ جیسے تم سے پہلے لوگوں پر دنیا کشادہ کی گئی پھر انھوں نے اس میں رغبت کی تو اس دنیا نے ان کو ہلاک کر ڈالا۔ کہیں تمہیں بھی ہلاک نہ کر دے۔