(١٨٦٧١) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَنْبَأَنَا أَبُو عَلِیٍّ الْحَافِظُ إِمْلاَئً أَنْبَأَنَا حَامِدُ بْنُ شُعَیْبٍ حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِی مُزَاحِمٍ حَدَّثَنَا أَبُو شَیْبَۃَ عَنِ الْحَکَمِ بْنِ عُتَیْبَۃَ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا : أَنَّ النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - کَتَبَ إِلَی مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّ مَنْ أَسْلَمَ مِنَ الْمُسْلِمِینَ فَلَہُ مَا لِلْمُسْلِمِینَ وَعَلَیْہِ مَا عَلَیْہِمْ وَمَنْ أَقَامَ عَلَی یَہُودِیَّتِہِ أَوْ نَصْرَانِیَّتِہِ فَعَلَی کُلِّ حَالِمٍ دِینَارًا أَوْ عِدْلَہُ مِنَ الْمَعَافِرِ ذَکَرٍ أَوْ أُنْثَی حُرٍّ أَوْ مَمْلُوکٍ وَفِی کُلِّ ثَلاَثِینَ مِنَ الْبَقَرِ تَبِیعٌ أَوْ تَبِیعَۃٌ وَفِی کُلِّ أَرْبَعِینَ بَقَرَۃٌ مُسِنَّۃٌ وَفِی کُلِّ أَرْبَعِینَ مِنَ الإِبِلِ ابْنَۃُ لَبُونٍ وَفِیمَا سَقَتِ السَّمَائُ أَوْ سُقِیَ فَیْحًا الْعُشْرُ وَفِیمَا سُقِیَ بِالْغَرْبِ نِصْفُ الْعُشْرِ ۔
ہَذَا لاَ یَثْبُتُ بِہَذَا الإِسْنَادِ ۔ [ضعیف ]
(١٨٦٧١) حضرت عبداللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے معاذ بن جبل (رض) کی طرف خط تحریر کیا جس نے اسلام قبول کرلیا تو اس کے وہی حقوق ہیں جو مسلمانوں کے ہیں اور اس پر وہی ذمرداری عائد ہوگی جو دوسرے مسلمانوں پر ہے اور جو یہودی یا عیسائی ہو، ان کے بالغ پر ایک دینار یا اس کے برابر معافری کپڑا ہے مذکر ہو یا مونث، آزاد ہو یا غلام اور ہر تیس گائے میں ایک تبیعہ نر یا مادہ اور ہر چالیس گائے پر ایک مثنہ اور ہر چالیس اونٹوں پر ایک بنت لبون دو سال مکمل والی تیسرے سال میں داخل ہو اور وہ کھیتی جو بارش سے سیراب ہو اس میں دسواں حصہ ہے اور جس کھیتی کو ٹیوب ویل کے ذریعے سیراب کیا جائے اس کا ٢٠ واں حصہ ہے۔