(١٨٧١١) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّعْرَانِیُّ حَدَّثَنَا جَدِّی حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُلَیْحٍ عَنْ مُوسَی بْنِ عُقْبَۃَ قَالَ قَالَ ابْنُ شِہَابٍ : ہَذَا حَدِیثُ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - حِینَ خَرَجَ إِلَی بَنِی النَّضِیرِ یَسْتَعِینُہُمْ فِی عَقْلِ الْکِلاَبِیَّیْنِ وَخَرَجَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فِی رِجَالٍ مِنْ أَصْحَابِہِ إِلَی بَنِی النَّضِیرِ یَسْتَعِینُہُمْ فِی عَقْلِ الْکِلاَبِیَّیْنِ وَکَانُوا زَعَمُوا قَدْ دَسُّوا إِلَی قُرَیْشٍ حِینَ نَزَلُوا بِأُحُدٍ فِی قِتَالِ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَحَضُّوہُمْ عَلَی الْقِتَالِ وَدَلُّوہُمْ عَلَی الْعَوْرَۃِ فَلَمَّا کَلَّمَہُمْ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فِی عَقْلِ الْکِلاَبِیَّیْنِ قَالُوا اجْلِسْ أَبَا الْقَاسِمِ حَتَّی تَطْعَمَ وَتَرْجِعَ بِحَاجَتِکَ وَنَقُومَ فَنَتَشَاوَرَ وَنُصْلِحَ أَمْرَنَا فِیمَا جِئْتَنَا لَہُ فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَمَنْ مَعَہُ مِنْ أَصْحَابِہِ فِی ظِلِّ جِدَارٍ یَنْتَظِرُ أَنْ یُصْلِحُوا أَمْرَہُمْ فَلَمَّا خَلَوْا وَالشَّیْطَانُ مَعَہُمْ لاَ یُفَارِقُہُمُ ائْتَمَرُوا بِقَتْلِ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَقَالُوا : لَنْ تَجِدُوہُ أَقْرَبَ مِنْہُ الآنَ فَاسْتَرِیحُوا مِنْہُ تَأْمَنُوا فِی دِیَارِکُمْ وَیُرْفَعُ عَنْکُمُ الْبَلاَئُ فَقَالَ رَجُلٌ : إِنْ شِئْتُمْ ظَہَرْتُ فَوْقَ الْبَیْتِ وَدَلَّیْتُ عَلَیْہِ حَجَرًا فَقَتَلْتُہُ فَأَوْحَی اللَّہُ إِلَیْہِ فَأَخْبَرَہُ بِمَا ائْتَمَرُوا مِنْ شَأْنِہِ فَعَصَمَہُ اللَّہُ فَقَامَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - کَأَنَّہُ یُرِیدُ یَقْضِی حَاجَۃً وَتَرَکَ أَصْحَابَہُ فِی مَجْلِسِہِمْ وَانْتَظَرَہُ أَعْدَائُ اللَّہِ فَرَاثَ عَلَیْہِمْ وَأَقْبَلَ رَجُلٌ مِنْ أَہْلِ الْمَدِینَۃِ فَسَأَلُوہُ عَنْہُ فَقَالَ : لَقِیتُہُ قَدْ دَخَلَ أَزِقَّۃَ الْمَدِینَۃِ فَقَالُوا لأَصْحَابِہِ : عَجِلَ أَبُو الْقَاسِمِ أَنْ نُقِیمَ أَمْرَنَا فِی حَاجَتِہِ الَّتِی جَائَ بِہَا ثُمَّ قَامَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَرَجَعُوا وَنَزَلَ الْقُرْآنُ وَاللَّہُ أَعْلَمُ بِالَّذِی جَائَ أَعْدَائُ اللَّہِ فَقَالَ { یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا اذْکُرُوا نِعْمَۃَ اللَّہِ عَلَیْکُمْ إِذْ ہَمَّ قَوْمٌ أَنْ یَبْسُطُوا إِلَیْکُمْ أَیْدِیَہُمْ فَکَفَّ أَیْدِیَہُمْ عَنْکُمْ وَاتَّقُوا اللَّہَ وَعَلَی اللَّہِ فَلْیَتَوَکَّلِ الْمُؤْمِنُونَ } [المائدۃ ١١] فَلَمَّا أَظْہَرَ اللَّہُ رَسُولَہُ عَلَی مَا أَرَادُوا بِہِ وَعَلَی خِیَانَتِہِمْ لِلَّہِ وَلِرَسُولِہِ أَمَرَ بِإِجْلاَئِہِمْ وَإِخْرَاجِہِمْ مِنْ دِیَارِہِمْ وَأَمَرَہُمْ أَنْ یَسِیرُوا حَیْثُ شَائُ وا إِلَی آخَرِ الْحَدِیثِ ۔ [ضعیف ]
(١٨٧١١) ابن شہاب فرماتے ہیں کہ یہ حدیث رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہے، جب آپ بنو نضیر کے پاس گئے اور ان سے کلابین کی دیت میں مددمانگ رہے تھے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے صحابہ کے ساتھ بنو نضیر کے پاس گئے۔ کلابین کی دیت میں ان سے مدد چاہی اور مسلمانوں کا گمان تھا کہ انھوں نے قریشیوں سے مل کر غزوہ احد میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خلاف سازش کی۔ ان کو قتال پہ ابھارا اور راز بتاتے۔ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے کلابین کی دیت کے بارے میں بات چیت کی تو انھوں نے کہا : اے ابو القاسم ! آپ تشریف رکھیں، کھانا کھائیں۔ ہم اس معاملہ میں مشورہ کرلیں جس کے لیے آپ تشریف لائے ہیں۔ آپ صحابہ کے ساتھ دیوار کے سائے میں تشریف فرما تھے کہ وہ اپنے معاملہ میں صلاح مشورہ کرلیں۔ انھوں نے الگ ہو کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قتل کا مشورہ کرلیا اور کہنے لگے : اس سے راحت حاصل کرو اپنے گھروں میں امن سے رہو۔ تمہاری مصیبت ختم ہوجائے گی۔ ایک شخص نے کہا : اگر تم چاہو تو میں چھت سے اس کے اوپر پتھر گرا کر قتل کر ڈالوں۔ ادھر اللہ نے اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بذریعہ وحی اطلاع دے کر اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو محفوظ کرلیا۔ آپ اپنے صحابہ کو وہاں چھوڑ کر یوں نکلے جیسے قضائے حاجت کے لیے جایا جاتا ہے اور اللہ کے دشمنوں نے آپ کا انتظار کیا، لیکن آپ نے واپس آنے میں دیر کی تو انھوں نے مدینہ سے آنے والے ایک شخص سے آپ کے بارے میں پوچھا تو اس نے بتایا کہ آپ تو مدینہ کی گلی میں داخل ہو رہے تھے تو انھوں نے صحابہ سے کہا کہ آپ نے تو دیر فرما دی۔ ہم اس معاملہ میں مشورہ کر کے بیٹھے ہوئے ہیں۔ جب صحابہ واپس آگئے تو قرآن کا نزول ہوا، اللہ خوب جانتا ہے جو اللہ کے دشمنوں نے تدبیر کی، فرمایا : { یٰٓأَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اذْکُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ اِذْ ھَمَّ قَوْمٌ اَنْ یَّبْسُطُوْٓا اِلَیْکُمْ اَیْدِیَھُمْ فَکَفَّ اَیْدِیَھُمْ عَنْکُمْ وَ اتَّقُوا اللّٰہَ وَ عَلَی اللّٰہِ فَلْیَتَوَکَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ } [المائدۃ ١١] اے ایمان والو ! جو اللہ نے تمہارے اوپر احسان کیا اس کو یاد کرو جب اللہ نے ایک قوم کے ہاتھ تم سے روکے۔ اللہ سے ڈرو اور مومن توکل کریں۔ جب اللہ نے ان کے ارادہ کو ظاہر کردیا اور ان کی خیانت کو تو انھیں جلا وطن کردیا گیا اور کہا گیا : جہاں چاہو چلے جاؤ۔