(١٨٧١٥) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُصَرِّفُ بْنُ عَمْرٍو الْیَامِیُّ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ أَخْبَرَنَا أَسْبَاطُ بْنُ نَصْرٍ الْہَمْدَانِیُّ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقُرَشِیِّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ : صَالَحَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - أَہْلَ نَجْرَانَ عَلَی أَلْفَیْ حُلَّۃٍ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ کَمَا مَضَی قَالَ فِیہِ : عَلَی أَنْ لاَ تُہْدَمَ لَہُمْ بِیعَۃٌ وَلاَ یُخْرَجَ لَہُمْ قَسٌّ وَلاَ یُفْتَنُونَ عَنْ دِینِہِمْ مَا لَمْ یُحْدِثُوا حَدَثًا أَوْ یَأْکُلُوا الرِّبَا۔ [ضعیف ]
(١٨٧١٥) حضرت عبداللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اہل نجران سے دو ہزار سوٹوں پر صلح کی۔ مذکورہ حدیث میں ہے کہ ان کے معبد خانے نہ گرائے جائیں گے۔ پادری کو نہ نکالا جائے گا اور ان کے دین سے نہ ہٹایا جائے گا۔ جب تک کوئی نیا کام نہ کریں یا سود نہ کھائیں۔