(١٨٧١٧) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَخْتُوَیْہِ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ یَعْقُوبَ بْنِ یُوسُفَ الْمُطَّوِّعِیُّ حَدَّثَنَا الرَّبِیعُ بْنُ ثَعْلَبٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ عُقْبَۃَ بْنِ أَبِی الْعَیْزَارِ عَنْ سُفْیَانَ الثَّوْرِیِّ وَالْوَلِیدِ بْنِ نُوحٍ وَالسَّرِیِّ بْنِ مُصَرِّفٍ یَذْکُرُونَ عَنْ طَلْحَۃَ بْنِ مُصَرِّفٍ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ قَالَ : کَتَبْتُ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ حِینَ صَالِحَ أَہْلَ الشَّامِ بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ ہَذَا کِتَابٌ لِعَبْدِ اللَّہِ عُمَرَ أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ مِنْ نَصَارَی مَدِینَۃِ کَذَا وَکَذَا إِنَّکُمْ لَمَّا قَدِمْتُمْ عَلَیْنَا سَأَلْنَاکُمُ الأَمَانَ لأَنْفُسِنَا وَذَرَارَیِّنَا وَأَمْوَالِنَا وَأَہْلِ مِلَّتِنَا وَشَرَطْنَا لَکُمْ عَلَی أَنْفُسِنَا أَنْ لاَ نُحْدِثَ فِی مَدِینَتِنَا وَلاَ فِیمَا حَوْلَہَا دَیْرًا وَلاَ کَنِیسَۃً وَلاَ قَلاَّیَۃً وَلاَ صَوْمَعَۃَ رَاہِبٍ وَلاَ نُجَدِّدَ مَا خَرِبَ مِنْہَا وَلاَ نُحْیِیَ مَا کَانَ مِنْہَا فِی خِطَطِ الْمُسْلِمِینَ وَأَنْ لاَ نَمْنَعَ کَنَائِسَنَا أَنْ یَنْزِلَہَا أَحَدٌ مِنَ الْمُسْلِمِینَ فِی لَیْلٍ وَلاَ نَہَارٍ وَنُوَسِّعَ أَبْوَابَہَا لِلْمَارَّۃِ وَابْنِ السَّبِیلِ وَأَنْ نُنْزِلَ مَنْ مَرَّ بِنَا مِنَ الْمُسْلِمِینَ ثَلاَثَۃَ أَیَّامٍ نُطْعِمَہُمْ وَأَنْ لاَ نُؤْمِنَ فِی کَنَائِسِنَا وَلاَ مَنَازِلِنَا جَاسُوسًا وَلاَ نَکْتُمُ غِشًّا لِلْمُسْلِمِینَ وَلاَ نُعَلِّمَ أَوْلاَدَنَا الْقُرْآنَ وَلاَ نُظْہِرَ شِرْکًا وَلاَ نَدْعُو إِلَیْہِ أَحَدًا وَلاَ نَمْنَعَ أَحَدًا مِنْ قَرَابَتِنَا الدُّخُولَ فِی الإِسْلاَمِ إِنْ أَرَادَہُ وَأَنْ نُوَقِّرَ الْمُسْلِمِینَ وَأَنْ نَقُومَ لَہُمْ مِنْ مَجَالِسِنَا إِنْ أَرَادُوا جُلُوسًا وَلاَ نَتَشَبَّہُ بِہِمْ فِی شَیْئٍ مِنْ لِبَاسِہِمْ مِنْ قَلَنْسُوَۃٍ وَلاَ عِمَامَۃٍ وَلاَ نَعْلَیْنِ وَلاَ فَرْقِ شَعَرٍ وَلاَ نَتَکَلَّمَ بِکَلاَمِہِمْ وَلاَ نَتَکَنَّی بِکُنَاہُمْ وَلاَ نَرْکَبَ السُّرُوجَ وَلاَ نَتَقَلَّدَ السُّیُوفَ وَلاَ نَتَّخِذَ شَیْئًا مِنَ السِّلاَحِ وَلاَ نَحْمِلَہُ مَعَنَا وَلاَ نَنْقُشَ خَوَاتِیمَنَا بِالْعَرَبِیَّۃِ وَلاَ نَبِیعَ الْخُمُورَ وَأَنْ نَجُزَّ مَقَادِیمَ رُئُ وسِنَا وَأَنْ نَلْزَمَ زِیَّنَا حَیْثُمَا کُنَّا وَأَنْ نَشُدَّ الزَّنَانِیرَ عَلَی أَوْسَاطِنَا وَأَنْ لاَ نُظْہِرَ صُلُبَنَا وَکُتُبَنَا فِی شَیْئٍ مِنْ طَرِیقِ الْمُسْلِمِینَ وَلاَ أَسْوَاقِہِمْ وَأَنْ لاَ نُظْہِرَ الصُّلُبَ عَلَی کَنَائِسِنَا وَأَنْ لاَ نَضْرِبَ بِنَاقُوسٍ فِی کَنَائِسِنَا بَیْنَ حَضْرَۃِ الْمُسْلِمِینَ وَأَنْ لاَ نُخْرِجَ سَعَانِینًا وَلاَ بَاعُوثًا وَلاَ نَرْفَعَ أَصْوَاتَنَا مَعَ أَمْوَاتِنَا وَلاَ نُظْہِرَ النِّیرَانَ مَعَہُمْ فِی شَیْئٍ مِنْ طَرِیقِ الْمُسْلِمِینَ وَلاَ تُجَاوِرَہُمْ مَوْتَانَا وَلاَ نَتَّخِذَ مِنَ الرَّقِیقِ مَا جَرَی عَلَیْہِ سِہَامُ الْمُسْلِمِینَ وَأَنْ نُرْشِدَ الْمُسْلِمِینَ وَلاَ نَطَّلِعَ عَلَیْہِمْ فِی مَنَازِلِہِمْ فَلَمَّا أَتَیْتُ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بِالْکِتَابِ زَادَ فِیہِ : وَأَنْ لاَ نَضْرِبَ أَحَدًا مِنَ الْمُسْلِمِینَ شَرَطْنَا لَہُمْ ذَلِکَ عَلَی أَنْفُسِنَا وَأَہْلِ مِلَّتِنَا وَقَبِلْنَا عَنْہُمُ الأَمَانَ فَإِنْ نَحْنُ خَالَفْنَا شَیْئًا مِمَّا شَرَطْنَاہُ لَکُمْ فَضَمِنَّاہُ عَلَی أَنْفُسِنَا فَلاَ ذِمَّۃَ لَنَا وَقَدْ حَلَّ لَکُمْ مَا یَحِلُّ لَکُمْ مِنْ أَہْلِ الْمُعَانَدَۃِ وَالشِّقَاقِ ۔
(١٨٧١٧) عبد الرحمن بن غنم فرماتے ہیں : جس وقت شام والوں صلح کی تو میں نے حضرت عمر بن خطاب (رض) کو خط لکھا۔ شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو مہربان بےحدنہایت رحم والا ہے۔ یہ خط امیر المومنین حضرت عمر (رض) کے نام فلاں فلاں شہر کے عیسائیوں کی جانب سے۔ جس وقت تم ہمارے پاس آئے تھے تو ہم سے پناہ طلب کی۔ اپنی جانوں، اولاد، مال اور اپنے دین کے بارے میں۔ اور ہم نے شرط رکھی تھی کہ شہر کے اردگرد کو معبد خانہ اور ہوٹل اور رہب کا گھر نہ بنائیں گے اور نہ ویران شدہ کو تعمیر کریں گے اور نہ مسلمانوں کے راستہ میں ان کو آباد کریں گے اور نہ ہم اپنے کنسیے سے کسی مسلمان کو دن رات میں کسی وقت بھی روکیں گے اور ہم اپے دروازوں کو راہگیروں اور مسافروں کے لیے چھوڑیں گے اور ہم اپنے مسلمان مہمانوں کی تین دن تک ضیافت کریں گے اور ہم اپنے گھروں اور عبادت خانوں میں کسی جاسوس کو پناہ نہیں دیں گے اور نہ ہم اور نہ ہی اپنے بچوں کو قرآن پڑھائیں گے۔ نہ شرک کا اظہار کریں گے اور نہ اس کی کسی کو اس کی طرف کسی کو دعوت دیں گے اور نہ ہم اپنے رشتہداروں کو اسلام قبول کرنے سے منع کریں گے۔ ہم مسلمانوں کی تعظیم کریں گے۔ جب وہ ہماری مجلسوں میں بیٹھنا چاہیں گے تو ہم کھڑے ہوجایا کریں گے۔ ہم مسلمانوں کے لباس ، ٹوپی ، پگڑی جوتے اور بال وغیرہ میں ان کی مشابہت اختیار نہیں کریں گے۔ ہم ان کے کلام کو گفتگو میں نہیں لائیں گے۔ نہ ہم ان جیسی کنیتں رکھیں گے۔ ہم زینوں پر سوار نہیں ہوں گے اور نہ ہی تلوار لٹکائیں گے۔ نہ ہم کوئی اسلحہ لیں گے اور نہ اسے اپنے ساتھ اٹھائیں گے۔ ہم اپنے انگوٹھیاں عزبی میں نہیں گھڑوائیں گے اور نہ ہم شراب بیچیں گے۔ اور ہم اپنے سروں کے اگلے با ل کاٹ ڈالیں گے ہم اپنا لباس ہی پہنیں گے جہاں بھی ہو۔ ہم اپنے درمیانوں پر زناّر باندھیں گے۔ ہم اپنیصلیوں اور اپنی مسلمانوں کے بازاروں اور راستوں میں نہیں نکالیں گے۔ ور نہ ہی اپنے عبادت گاہوں پر صلیب لگائیں گے۔ مسلمانوں کی موجودگی میں ہم اپنی عبادت گاہوں میں نافوس نہیں بجائیں گے۔ ہم اپنیتہوار نہیں منائیں گے اور نہ ہی ” باعوث “ ادا کریں گے اور نہ ہم اپے مردوں پر آوا زوں کو بلند کریں گے۔ ہم مسلمانوں کے راستے میں اپنے ساتھ آگے وغیرہ نہیں لائیں گے۔ ہم اپنے مردوں کو ان کے پڑوس میں دفن نہیں کریں گے۔ نہ ہم وہ غلام لیں گے جس میں مسلمانوں کا حصہ ہو۔ ہم مسلمانوں کی راہنمائی کریں گے اور ان کے گھروں پر نہیں جھنکیں گے ۔ جب میں عمر (رض) کے پاس خط لایا ۔ اس میں یہ ہے زیادتی تھی کہ ہم کسی مسلمان کو نہیں ماریں گے۔ ہم یہ سب ان کے لیے اپنے اوپر اپنے مذہب والوں پر لازم کرلیا ہے اور ہم نے امان طلب کی ہے۔ پھر اگر ہم اپنیطے کردہ شرائط کی خلاف ورزی کریں تو ہمارا کوئی ذمہ نہ رہے گا۔ پھر آپ کے اہل معاندہ اور نافرمانوں کے لیے جو کرنا چاہیں حلال ہے۔