hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 18746

.

سنن البيهقي

18746
Sunan Al Bayhaqi
(١٨٧٤٠) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَحْمُوَیْہِ الْعَسْکَرِیُّ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَلاَنِسِیُّ حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِی إِیَاسٍ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ حَدَّثَنَا أَبُو جَمْرَۃَ قَالَ سَمِعْتُ جُوَیْرِیَۃَ بْنَ قُدَامَۃَ التَّمِیمِیَّ یَقُولُ : حَجَجْتُ فَأَتَیْتُ الْمَدِینَۃَ فَسَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَخْطُبُ فَقَالَ : إِنِّی رَأَیْتُ دِیکًا نَقَرَنِی نَقْرَۃً أَوْ نَقْرَتَیْنِ قَالَ فَمَا کَانَتْ إِلاَّ جُمُعَۃً أَوْ نَحْوَ ذَلِکَ حَتَّی أُصِیبَ ثُمَّ أَذِنَ لأَصْحَابِ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - ثُمَّ أَذِنَ لأَہْلِ الْمَدِینَۃِ ثُمَّ أَذِنَ لأَہْلِ الشَّامِ ثُمَّ أَذِنَ لأَہْلِ الْعِرَاقِ فَکُنَّا فِی آخِرِ مَنْ دَخَلَ فَإِذَا عِمَامَۃٌ سَوْدَائُ أَوْ بُرْدٌ أَسْوَدُ قَدْ عُصِبَ عَلَیَ طَعْنَتِہِ وَإِذَا الدَّمُ یَسِیلُ فَقُلْنَا : أَوْصِنَا یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ فَقَالَ : أُوصِیکُمْ بِکِتَابِ اللَّہِ فَإِنَّکُمْ لَنْ تَضِلُّوا مَا اتَّبَعْتُمُوہُ وَأُوصِیکُمْ بِالْمُہَاجِرِینَ فَإِنَّ النَّاسَ یَکْثُرُونَ وَیَقِلُّونَ وَأُوصِیکُمْ بِالأَنْصَارِ فَإِنَّہُمْ شِعْبُ الإِسْلاَمِ الَّذِی لَجَأَ إِلَیْہِ وَأُوصِیکُمْ بِالأَعْرَابِ فَإِنَّہُمْ أَصْلُکُمْ وَمَادَّتُکُمْ وَقَالَ مَرَّۃً أُخْرَی فَإِنَّہُمْ إِخْوَانُکُمْ وَعَدُوُّ عَدُوِّکُمْ وَأُوصِیکُمْ بِذِمَّۃِ اللَّہِ فَإِنَّہُمْ ذِمَّۃُ نَبِیِّکُمْ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَرِزْقُ عِیَالِکُمْ ثُمَّ قَالَ : قُومُوا عَنِّی۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ آدَمَ بْنِ أَبِی إِیَاسٍ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
(١٨٧٤٠) جویریہ بن قرامہ کہتے ہیں کہ میں حج کر کے مدینہ آیا تو حضرت عمر بن خطاب (رض) خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ میں نے مرغ کو دیکھا، اس نے مجھے ایک یا دو مرتبہ چونچ ماری۔ راوی کہتے ہیں : جمعہ کا دن تھا کہ انھیں زخمی کردیا گیا۔ سب سے پہلے صحابہ امیر مدینہ والوں، پھر شامی پھر عراقی لوگوں کو اجازت دی گئی۔ میں سب سے آخر میں داخل ہوا۔ حضرت عمر (رض) کے زخم پر سیاہ چادر باندھی گئی تھی اور خون بہہ رہا تھا۔ ہم نے وصیت کرنے کے بارے میں کہا تو فرمایا : جب تک تم کتاب اللہ کی پیروی کرتے رہو گے گمراہ نہ ہو گے اور میں تمہیں مہاجرین کے بارے میں نصیحت کرتا ہوں، کیونکہ لوگوں کی قلت و کثرت ہوتی رہتی ہے اور میں تمہیں انصار کے بارے میں نصیحت کرتا ہوں ، یہ اسلام کی ایسی گھاٹی کی مانند ہیں جس میں پناہ حاصل کی جاتی ہے اور دیہاتیوں کے بارے میں وصیت کرتا ہوں کیونکہ یہ تمہاری اصل ہیں اور دوسری مرتبہ فرمایا، کیونکہ یہ تمہارے بھائی اور تمہارے دشمنوں کے دشمن ہیں۔ میں اللہ کے وعدے کی وصیت کرتا ہوں، وہ تمہارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عہد میں ہیں اور تمہارے عیال کے رزق کی نصیحت کرتا ہوں۔ پھر فرمانے لگے : میرے قریب سے اٹھ جاؤ۔