(١٨٧٥٣) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو السَّرِیِّ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَامِدٍ بِالطَّابَرَانِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ الْحَنْظَلِیُّ حَدَّثَنَا سُوَیْدُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ مَیْسَرَۃَ عَنْ مُوسَی بْنِ عُقْبَۃَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا : أَنَّ یَہُودَ بَنِی النَّضِیرِ وَقُرَیْظَۃَ حَارَبُوا رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَأَجْلَی رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بَنِی النَّضِیرِ وَأَقَرَّ قُرَیْظَۃَ وَذَکَرَ الْحَدِیثَ قَالَ وَأَجْلَی رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَہُودَ الْمَدِینَۃِ کُلَّہُمْ بَنِی قَیْنُقَاعَ وَہُمْ قَوْمُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ سَلاَمٍ وَبَنِی حَارِثَۃَ وَکُلَّ یَہُودِیٍّ کَانَ بِالْمَدِینَۃِ وَکَانَ الْیَہُودُ وَالنَّصَارَی وَمَنْ سِوَاہُمْ مِنَ الْکُفَّارِ لاَ یُقَرُّونَ فِیہَا فَوْقَ ثَلاَثَۃِ أَیَّامٍ عَلَی عَہْدِ عُمَرَ وَلاَ أَدْرِی أَکَانَ یَفْعَلُ ذَلِکَ بِہِمْ أَمْ لاَ ۔
[صحیح۔ مسلم ١٧٦٦]
(١٨٧٥٣) نافع حضرت عبداللہ بن عمر (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ بنو نضیر و قریظہ کے یہودیوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے جنگ کی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بنو نضیر کو جلا وطن کردیا جبکہ بنو قریظہ کو برقرار رکھا۔ راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مدینہ کے یہود کو جلا وطن کردیا یعنی بنو قینقاع جو عبداللہ بن سلام کی قوم تھی اور بنو حارثہ کو بھی جلا وطن کیا۔ حضرت عمر (رض) کے دور میں یہود و نصاریٰ اور کوئی بھی کافر تین دن سے زیادہ مدینہ میں نہ رہا۔ مجھے معلوم نہیں انھوں نے ان کے ساتھ یہ معاملہ کیا یا نہیں۔