(١٨٧٦٠) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الأَصْبَہَانِیُّ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الْجَہَمِ حَدَّثَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ الْفَرَجِ حَدَّثَنَا الْوَاقِدِیُّ حَدَّثَنِی عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - مِنْ خَیْبَرَ إِلَی وَادِی الْقُرَی فَذَکَرَ الْحَدِیثَ فِی فَتْحِ وَادِی الْقُرَی قَالَ : فَأَقَامَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بِوَادِی الْقُرَی أَرْبَعَۃَ أَیَّامٍ وَقَسَمَ مَا أَصَابَ عَلَی أَصْحَابِہِ بِوَادِی الْقُرَی وَتَرَک الأَرْضَ وَالنَّخْلَ بِأَیْدِی یَہُودَ وَعَامَلَہُمْ عَلَیْہَا فَلَمَّا کَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَخْرَجَ یَہُودَ خَیْبَرَ وَفَدَکَ وَلَمْ یُخْرِجْ أَہْلَ تَیْمَائَ وَوَادِی الْقُرَی لأَنَّہُمَا دَاخِلَتَانِ فِی أَرْضِ الشَّامِ وَنَرَی أَنَّ مَا دُونَ وَادِی الْقُرَی إِلَی الْمَدِینَۃِ حِجَازٌ وَأَنَّ مَا وَرَائَ ذَلِکَ مِنَ الشَّامِ ۔
قَالَ الشَّیْخُ ہَذَا الْکَلاَمُ الأَخِیرُ أَظُنُّہُ مِنْ قَوْلِ الْوَاقِدِیِّ ۔ [ضعیف جدًا ]
(١٨٧٦٠) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ وادی قریٰ کی جانب گئے۔ اس نے وادی قریٰ کی فتح کے بارے میں حدیث ذکر کی۔ آپ نے وادی قریٰ میں چار قیام کیا۔ وادی القریٰ سے جو مال غنیمت حاصل ہوا تھا صحابہ میں تقسیم فرمایا اور زمین اور کھجوروں کے باغات پر یہود کو عامل بنادیا تو حضرت عمر (رض) نے اپنے دور میں خیبر وفدک کے یہود کو جلا وطن کردیا، لیکن تیماء اور وادی القریٰ کے لوگوں کو جلا وطن نہ کیا؛ کیونکہ یہ دونوں شام کی سرزمین میں شامل تھے اور ہمارے خیال میں وادی القریٰ کی اس طرف والی سرزمین حجاز میں شامل ہے جبکہ دوسری جانب والی شام میں داخل ہے۔ شیخ کہتے ہیں کہ یہ آخری کلام اور واقدی کا قول ہے۔