(١٨٧٥٩) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ قَالَ قَالَ الشَّافِعِیُّ : وَإِنْ سَأَلَ مَنْ یُؤْخَذُ مِنْہُ الْجِزْیَۃُ أَنْ یُعْطِیَہَا وَیُجْرَی عَلَیْہِ الْحُکْمُ عَلَی أَنْ یَسْکُنَ الْحِجَازَ لَمْ یَکُنْ ذَلِکَ لَہُ وَالْحَجَازُ مَکَّۃُ والْمَدِینَۃُ وَالْیَمَامَۃُ وَمَخَالِیفُہَا کُلُّہَا۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ : وَلَمْ أَعْلَمْ أَحَدًا أَجْلَی أَحَدًا مِنْ أَہْلِ الذِّمَّۃِ مِنَ الْیَمَنِ وَقَدْ کَانَتْ بِہَا ذِمَّۃٌ وَلَیْسَتِ الْیَمَنُ بِحِجَازٍ فَلاَ یُجْلِیہِمْ أَحَدٌ مِنَ الْیَمَنِ وَلاَ بَأْسَ أَنْ یُصَالِحَہُمْ عَلَی مُقَامِہِمْ بِالْیَمَنِ ۔
قَالَ الشَّیْخُ : قَدْ جَعَلُوا الْیَمَنَ مِنْ أَرْضِ الْعَرَبِ وَالْجَلاَئُ وَقَعَ عَلَی أَہْلِ نَجْرَانَ وَذِمَّۃُ أَہْلِ الْحِجَازِ دُونَ ذِمَّۃِ أَہْلِ الْیَمَنِ لأَنَّہَا لَیْسَتْ بِحِجَازٍ لاَ لأَنَّہُمْ لَمْ یَرَوْہَا مِنْ أَرْضِ الْعَرَبِ وَفِی الْحَدِیثِ تَخْصِیصٌ وَفِی حَدِیثِ سَمُرَۃَ عَنْ أَبِی عُبَیْدَۃَ بْنِ الْجَرَّاحِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ دَلِیلٌ أَوْ شِبْہُ دَلِیلٍ عَلَی مَوْضِعِ الْخُصُوصِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ ۔ [صحیح ]
(١٨٧٥٩) امام شافعی (رض) فرماتے ہیں : اگر ان سے سوال ہو کہ جزیہ کن سے لیا جائے گا اور حجاز، مکہ، مدینہ، یمامہ اور ان کی مخالف اطراف مکمل ہے۔
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : مجھے معلوم نہیں کہ کوئی ذمی شخص یمن سے جلا وطن کیا گیا ہو۔ کیونکہ ان کے ساتھعہد تھا اور یمن کا علاقہ حجاز میں شامل نہ تھا اس لیے کسی کو یمن سے جلا وطن نہ کیا گیا اور یمن میں رہتے ہوئے ان سے صلح کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
شیخ فرماتے ہیں : یمن عرب کی سرزمین ہے اہل نجران کو اس سے جلا وطن کیا گیا اور اہل حجاز کا عہد تھا نہ کہ اہل یمن کا۔ کیونکہ یہ حجاز نہ تھا اور نہ ہی ان کے خیال میں یہ عرب کی سرزمین تھی۔ حدیث میں تخصیص ہے۔ ابو عبیدہ بن جراح کہتے ہیں کہ مخصوص جگہ کے لیے دلیل یا شبہ دلیل کا ہونا ضروری ہے۔