(١٨٧٨٩) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ حَدَّثَنَا عَارِمٌ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو النَّضْرِ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ الْمَرْوَزِیُّ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَیْمَانَ حَدَّثَنَا أَبِی عَنْ أَبِی عُثْمَانَ قَالَ حَدَّثَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ : کُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - ثَلاَثِینَ وَمِائَۃً فَقَالَ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : ہَلْ مَعَ أَحَدٍ مِنْکُمْ طَعَامٌ ۔ فَإِذَا مَعَ رَجُلٍ صَاعٌ مِنْ طَعَامٍ أَوْ نَحْوُہُ فَعُجِنَ ثُمَّ جَائَ رَجُلٌ مُشْرِکٌ مُشْعَانٌ طَوِیلٌ بِغَنَمٍ یَسُوقُہَا قَالَ : أَبَیْعٌ أَوْ عَطِیَّۃٌ أَوْ قَالَ أَمْ ہِبَۃٌ۔ فَقَالَ : بَلْ بَیْعٌ قَالَ : فَاشْتَرَی مِنْہَا شَاۃً فَصُنِعَتْ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بِسَوَادِ الْبَطْنِ أَنْ یُشْوَی وَایْمُ اللَّہِ مَا مِنَ الثَّلاَثِینَ وَالْمِائَۃِ إِلاَّ قَدْ حَزَّ لَہُ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - حُزَّۃً مِنْ سَوَادِ بَطْنِہَا إِنْ کَانَ شَاہِدًا أَعْطَاہُ وَإِنْ کَانَ غَائِبًا خَبَأَ لَہُ قَالَ وَجَعَلَ مِنْہَا قَصْعَتَیْنِ قَالَ فَأَکَلْنَا أَجْمَعُونَ وَشَبِعْنَا وَفَضَلَ فِی الْقَصْعَتَیْنِ فَحَمَلْنَاہُ عَلَی الْبَعِیرِ أَوْ کَمَا قَالَ ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَارِمٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ مُعَاذٍ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
(١٨٧٨٩) عبد الرحمن بن ابی بکر (رض) فرماتے ہیں کہ ہم ١٣٠ ساتھی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : کیا کسی کے پاس کھانا موجود ہے ؟ جب کسی شخص کے پاس ایک صاعگندم ہوتی تو اسے گوند لیا جاتا ۔ پھر ایک مشرک آدمی لمبے پراگندہ بالوں والا بکریاں لیکر آیا۔ فرمایا : کیا یہ فروخت کرو گے یا ہبہ ہے ؟ اس نے کہا : فروخت کرنا ہے، آپ نے اس سے ایک بکری خرید لی، اسے ذبح کیا گیا، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پیٹ کے گوشت کے بارے میں حکم دیا کہ اسے بھوتا جائے، اللہ کی قسم ! ہم ایک سو تیس شخص تھے آپ نے ہمیں اس گوشت سے کاٹ کردیا ۔ اگر کوئی موجود نہ ہوتا تو اس کے لیے الگ کر کے رکھ لیتے۔ راوی کہتے ہیں کہ آپ نے اس گوشت کو دو پلیٹوں میں ڈال دیا، ہم تمام نے سیر ہو کر کھایا۔ پھر جو باقی بچا اونٹ پر لاد لیا یا جیسے آپ نے فرمایا۔