(١٨٧٩٣) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَحْمَدَ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا عِمْرَانُ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ یَزِیدَ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ عَنْ عِیَاضِ بْنِ حِمَارٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : أَہْدَیْتُ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - نَاقَۃً أَوْ ہَدِیَّۃً فَقَالَ : أَسْلَمْتَ ؟ ۔ قُلْتُ : لاَ قَالَ : إِنِّی نُہِیتُ عَنْ زَبْدِ الْمُشْرِکِینَ ۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ حَدَّثَنَا یُونُسُ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ حَدَّثَنَا أَبُو التَّیَّاحِ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ عَنْ عِیَاضِ بْنِ حِمَارٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : أَہْدَیْتُ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - ہَدِیَّۃً أَوْ قَالَ نَاقَۃً فَقَالَ لِی : أَسْلَمْتَ ؟ ۔ قُلْتُ : لاَ فَأَبَی أَنْ یَقْبَلَہَا وَقَالَ : إِنَّا لاَ نَقْبَلُ زَبْدَ الْمُشْرِکِینَ ۔ قُلْتُ لِلْحَسَنِ : مَا زَبْدُ الْمُشْرِکِینَ ؟ قَالَ : رِفْدُہُمْ ۔
قَالَ الشَّیْخُ : یَحْتَمِلُ رَدُّہُ ہَدِیَّتَہُ التَّحْرِیمَ وَیَحْتَمِلُ التَّنْزِیہَ وَقَدْ یُغِیظُہُ بِرَدِّ ہَدِیَّتِہِ فَیَحْمِلُہُ ذَلِکَ عَلَی الإِسْلاَمِ وَالأَخْبَارُ فِی قَبُولِہِ ہَدَایَاہُمْ أَصَحُّ وَأَکْثَرُ وَبِاللَّہِ التَّوْفِیقُ ۔ [صحیح ]
(١٨٧٩٣) عیاض بن حمارفرماتے ہیں : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اونٹنی تحفہ میں دی یا کوئی تحفہ دیا۔ آپ نے پوچھا : مسلمان ہوگئے ہو ؟ میں نے کہا : نہیں ، آپ نے فرمایا : میں مشرکین کے تحفے قبول نہیں کرتا۔ (ب) عیاض بن حمار کہتے ہیں : میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کوئی ہدیہ یا اونٹنی دی۔ آپ نے پوچھا کہ مسلمان ہو ؟ میں نے کہا : نہیں تو آپ نے تحفہ قبول کرنے سے انکار کردیا اور فرمایا : ہم مشرکین کے تحفے قبول نہیں کرتے۔ میں نے حسن سے پوچھا : مشرکین کے تحفے کیا ہیں ؟ فرمایا : ان کے عطیے۔
شیخ فرماتے ہیں : اس کا تحفہ حرمت یا تنزیہ کی وجہ سے رد کردیا، اس غصے کی وجہ سے کہ انھوں نے اسلام قبول نہیں کیا۔ حالانکہ مشرکین کے تحفے قبول کرنے کے بارے میں صحیح اور کثرت سے روایات موجود ہیں۔