(١٨٧٩٦) وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ حَدَّثَنَا یَحْیَی حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلاَمِ بْنُ حَرْبٍ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنِ السَّفَّاحِ عَنْ دَاوُدَ بْنِ کُرْدُوسٍ عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ النُّعْمَانِ التَّغْلِبِیِّ أَنَّہُ قَالَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ إِنَّ بَنِی تَغْلِبَ مَنْ قَدْ عَلِمْتَ شَوْکَتَہُمْ وَإِنَّہُمْ بِإِزَائِ الْعَدُوِّ فَإِنْ ظَاہَرُوا عَلَیْکَ الْعَدُوَّ اشْتَدَّتْ مُؤْنَتُہُمْ فَإِنْ رَأَیْتَ أَنْ تُعْطِیَہُمْ شَیْئًا قَالَ فَأَفْعَلُ قَالَ : فَصَالَحَہُمْ عَلَی أَنْ لاَ یَغْمِسُوا أَحَدًا مِنْ أَوْلاَدِہِمْ فِی النَّصْرَانِیَّۃِ وَتُضَاعَفُ عَلَیْہِمُ الصَّدَقَۃُ قَالَ : وَکَانَ عُبَادَۃُ یَقُولُ : قَدْ فَعَلُوا فَلاَ عَہْدَ لَہُمْ ۔ [ضعیف ]
(١٨٧٩٦) عبادہ بن نعمان تغلبیب فرماتے ہیں کہ اس نے حضرت عمر (رض) سے کہا : اے امیر المؤمنین ! آپ بنو تغلب کی شان و شوکت کو جانتے ہیں۔ وہ دشمن کے مقابلہ میں آپ کی مدد کریں گے۔ اگر آپ ان کو کچھ عطا کریں، حضرت عمر (رض) نے کہا : میں کچھ دے دوں گا۔ راوی کہتے ہیں : حضرت عمر (رض) نے ان سے اس شرط پر صلح کی کہ وہ اپنی اولاد کو عیسائیت میں نہ رنگے گے اور ان پر دوگنا صدقہ ہوگا۔ عبادہ کہتے ہیں کہ اگر انھوں نے یہ کام کرلیا تو ان کے لیے کوئی عہد نہیں ہے۔