hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 18819

.

سنن البيهقي

18819
Sunan Al Bayhaqi
(١٨٨١٣) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَبِی عِیسَی حَدَّثَنَا یَعْلَی بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ سِیَاہٍ ح قَالَ وَأَخْبَرَنِی أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِی جَعْفَرٍ أَخْبَرَنَا أَبُو یَعْلَی حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ نُمَیْرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ سِیَاہٍ حَدَّثَنَا حَبِیبُ بْنُ أَبِی ثَابِتٍ عَنْ أَبِی وَائِلٍ قَالَ : قَامَ سَہْلُ بْنُ حُنَیْفٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَوْمَ صِفِّینَ فَقَالَ أَیُّہَا النَّاسُ اتَّہِمُوا أَنْفُسَکُمْ لَقَدْ کُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَوْمَ الْحُدَیْبِیَۃِ وَلَوْ نَرَی قِتَالاً لَقَاتَلْنَا وَذَلِکَ فِی الصُّلْحِ الَّذِی کَانَ بَیْنَ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَبَیْنَ الْمُشْرِکِینَ قَالَ فَأَتَی عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَلَسْنَا عَلَی حَقٍّ وَہُمْ عَلَی بَاطِلٍ ؟ قَالَ : بَلَی ۔ قَالَ : أَلَیْسَ قَتْلاَنَا فِی الْجَنَّۃِ وَقَتْلاَہُمْ فِی النَّارِ ؟ قَالَ : بَلَی ۔ قَالَ : فَفِیمَ نُعْطِی الدَّنِیَّۃَ فِی أَنْفُسِنَا وَنَرْجِعُ وَلَمَّا یَحْکُمِ اللَّہُ بَیْنَنَا وَبَیْنَہُمْ قَالَ : یَا ابْنَ الْخَطَّابِ إِنِّی رَسُولُ اللَّہِ وَلَنْ یُضَیِّعَنِی اللَّہُ ۔ قَالَ : فَانْطَلَقَ ابْنُ الْخَطَّابِ وَلَمْ یَصْبِرْ مُتَغَیِّظًا فَأَتَی أَبَا بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَالَ : یَا أَبَا بَکْرٍ أَلَسْنَا عَلَی حَقٍّ وَہُمْ عَلَی بَاطِلٍ ؟ قَالَ : بَلَی قَالَ : أَلَیْسَ قَتْلاَنَا فِی الْجَنَّۃِ وَقَتْلاَہُمْ فِی النَّارِ ؟ قَالَ : بَلَی قَالَ : فَعَلَی مَا نُعْطِی الدَّنِیَّۃَ فِی دِینِنَا وَنَرْجِعُ وَلَمَّا یَحْکُمِ اللَّہُ بَیْنَنَا وَبَیْنَہُمْ قَالَ یَا ابْنَ الْخَطَّابِ إِنَّہُ رَسُولُ اللَّہِ وَلَنْ یُضَیِّعَہُ اللَّہُ أَبَدًا۔ قَالَ : فَنَزَلَ الْقُرْآنُ عَلَی مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَأَرْسَلَ إِلَی عُمَرَ فَأَقْرَأَہُ إِیَّاہُ فَقَالَ یَا رَسُولَ اللَّہِ أَوَفَتْحٌ ہُوَ ؟ قَالَ : نَعَمْ قَالَ : فَطَابَتْ نَفْسُہُ وَرَجَعَ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ إِسْحَاقَ السُّلَمِیُّ عَنْ یَعْلَی بْنِ عُبَیْدٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ ۔ قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ قَالَ ابْنُ شِہَابٍ فَمَا کَانَ فِی الإِسْلاَمِ فَتْحٌ أَعْظَمُ مِنْہُ کَانَتِ الْحَرْبُ قَدْ أَحْجَزَتِ النَّاسَ فَلَمَّا أَمِنُوا لَمْ یُکَلَّمْ بِالإِسْلاَمِ أَحَدٌ یَعْقِلُ إِلاَّ قَبِلَہُ فَلَقَدْ أَسْلَمَ فِی سَنَتَیْنِ مِنْ تِلْکَ الْہُدْنَۃِ أَکْثَرَ مِمَّنْ أَسْلَمَ قَبْلَ ذَلِکَ ۔ [صحیح ]
(١٨٨١٣) ابو وائل فرماتے ہیں کہ سہیل بن حنیف نے صفین کے دن کہا : اے لوگو ! اپنے اوپر الزام لگاؤ۔ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ حدیبیہ میں موجود تھے۔ اگر لڑائی ہوتی ہم ضرور لڑتے لیکن یہ مسلمانوں اور مشرکین کے درمیان صلح تھی تو اس وقت حضرت عمر (رض) نے کہا تھا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! کیا ہم حق پر اور ایمان باطل پر نہیں ؟ آپ نے فرمایا : ہم حق پر اور دشمن باطل پر ہیں۔ حضرت عمر (رض) نے کہا : کیا ہمارے مقتول جنت اور ان کے مقتول جہنم میں نہ جائیں گے ؟ آپ نے فرمایا : ہمارے مقتول جنتی اور ان کے جہنمی ہیں۔ حضرت عمر (رض) نے کہا : پھر ہم کمزوری کیوں دکھا رہے ہیں، جب کہ اللہ ہمارے اور ان کے درمیان فیصلہ فرما دیں، آپ نے فرمایا : اے ابن خطاب ! میں اللہ کا رسول ہوں، اللہ مجھے ضائع نہ کریں گے، راوی کہتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) غصہ کی حالت میں حضرت ابوبکر (رض) کے پاس چلے گئے اور کہا : اے ابوبکر (رض) ! کیا ہم حق پر اور وہ باطل پر نہیں ؟ ابوبکر (رض) کہنے لگے : ہم حق پر اور وہ باطل پر ہیں۔ حضرت عمر (رض) نے کہا : کیا ہمارے مقتول جنت میں اور ان کے جہنم میں نہ جائیں گے ؟ ابوبکر (رض) نے فرمایا : ہمارے مقتول جنتی اور ان کے جہنمی ہیں تو حضرت عمر (رض) نے کہا : پھر ہم اپنے دین کے بارے میں کمزوری کیوں دکھا رہے ہیں، حالانکہ ابھی تک اللہ نے ہمارے اور ان کے درمیان فیصلہ بھی نہیں فرمایا ؟ ابوبکر (رض) نے فرمایا : اے ابن خطاب ! وہ اللہ کے نبی ہیں، اللہ انھیں ضائع نہ کرے گا۔ راوی کہتے ہیں کہ اللہ نے قرآن نازل کیا تو آپ نے عمر (رض) کو بلا کر سنایا، حضرت عمر (رض) نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! یہ فتح ہے ؟ آپ نے فرمایا : یہ فتح ہے۔ راوی کہتے ہیں : پھر وہ خوشی خوشی واپس چلے گئے۔
امام شافعی (رض) فرماتے ہیں : ابن شھاب نے فرمایا : اسلام میں اس سے بڑی فتح کوئی نہ تھی، جب لوگوں کی لڑائی ختم ہوگئی۔ پھر کوئی عقل مند انسان اسلام کی بات سن کر قبول کیے بغیر نہ رہا، دو سال صلح کی مدت میں جتنے مسلمان ہوئے اس سے پہلے نہ ہوئے تھے۔