(١٨٨١٤) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِی الزُّہْرِیُّ عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ مَرْوَانَ وَالْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَۃَ فِی قِصَّۃِ الْحُدَیْبِیَۃِ وَفِیہَا مُدْرَجًا ثُمَّ انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - رَاجِعًا فَلَمَّا أَنْ کَانَ بَیْنَ مَکَّۃَ وَالْمَدِینَۃِ نَزَلَتْ عَلَیْہِ سُورَۃُ الْفَتْحِ مِنْ أَوَّلِہَا إِلَی آخِرِہَا {إِنَّا فَتَحْنَا لَکَ فَتْحًا مُبِینًا } فَکَانَتِ الْقَضِیَّۃُ فِی سُورَۃِ الْفَتْحِ وَمَا ذَکَرَ اللَّہُ مِنْ بَیْعَۃِ رَسُولِہِ تَحْتَ الشَّجَرَۃِ فَلَمَّا أَمِنَ النَّاسُ وَتَفَاوَضُوا لَمْ یُکَلَّمْ أَحَدٌ بِالإِسْلاَمِ إِلاَّ دَخَلَ فِیہِ فَلَقَدْ دَخَلَ فِی تَیْنِکَ السَّنَتَیْنِ فِی الإِسْلاَمِ أَکْثَرَ مِمَّا کَانَ فِیہِ قَبْلَ ذَلِکَ وَکَانَ صُلْحُ الْحُدَیْبِیَۃِ فَتْحًا عَظِیمًا۔ [صحیح ]
(١٨٨١٤) عروہ مسور بن مخرمہ اور مروان بن حکم سے نقل فرماتے ہیں کہ حدیبیہ اس میں اندراج ہے کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) واپس پلٹے، ابھی مکہ اور مدینہ کے درمیان تھے کہ سورة فتح مکمل نازل ہوگئی، { اِنَّا فَتَحْنَا لَکَ فَتْحًا مُّبِیْنًا } یہ فیصلہ سورة فتح میں ہے، جو صحابہ کا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی درخت کے نیچے بیعت کرنا ہے جب تمام لوگ امن میں ہوگئے کسی نے بھی اسلام کے متعلق بات نہ کی لیکن جو اسلام کے متعلق سنتا وہ ضرور اسلام قبول کرلیتا، ان دو سال کے اندر اسلام میں زیادہ لوگ داخل وئے اور صلح حدیبیہ عظیم فتح تھی۔