(١٨٨٢٢) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبْدُوسٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا ہَمَّامٌ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ قَالَ حَدَّثَنِی أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بَعَثَ خَالَہُ وَکَانَ اسْمَہُ حَرَامٌ أَخَا أُمِّ سُلَیْمٍ فِی سَبْعِینَ رَجُلاً فَقُتِلُوا یَوْمَ بِئْرِ مَعُونَۃَ وَکَانَ رَئِیسُ الْمُشْرِکِینَ عَامِرُ بْنُ الطُّفَیْلِ وَکَانَ أَتَی النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَقَالَ : أُخَیِّرُکَ بَیْنَ ثَلاَثِ خِصَالٍ أَنْ یَکُونَ لَکَ أَہْلُ السَّہْلِ وَلِی أَہْلُ الْمَدَرِ وَأَکُونُ خَلِیفَتَکَ مِنْ بَعْدِکَ أَوْ أَغْزُوکَ بِغَطَفَانَ بِأَلْفِ أَشْقَرَ وَأَلْفِ شَقْرَائَ ۔ قَالَ : فَطُعِنَ فِی بَیْتِ امْرَأَۃٍ مِنْ بَنِی فُلاَنٍ فَقَالَ : غُدَّۃٌ کَغُدَّۃِ الْبِکْرِ فِی بَیْتِ امْرَأَۃٍ مِنْ بَنِی فُلاَنٍ ائْتُونِی بِفَرَسِی فَرَکِبَہُ فَمَاتَ عَلَی ظَہْرِ فَرَسِہِ فَانْطَلَقَ حَرَامٌ أَخُو أُمِّ سُلَیْمٍ وَرَجُلاَنِ مَعَہُ رَجُلٌ أَعْرَجُ وَرَجُلٌ مِنْ بَنِی فُلاَنٍ قَالَ : کُونَا یَعْنِی قَرِیبًا مِنِّی حَتَّی آتِیَہُمْ فَإِنْ آمَنُونِی کُنْتُمْ کَذَا وَإِنْ قَتَلُونِی أَتَیْتُمْ أَصْحَابَکُمْ فَأَتَاہُمْ حَرَامٌ فَقَالَ : أَتُؤْمِنُونِی أُبَلِّغُکُمْ رِسَالَۃَ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالُوا نَعَمْ فَجَعَلَ یُحَدِّثُہُمْ وَأَوْمَئُوا إِلَی رَجُلٍ فَأَتَاہُ مِنْ خَلْفِہِ فَطَعَنَہُ ۔ قَالَ ہَمَّامٌ أَحْسِبُہُ قَالَ فَأَنْفَذَہُ بِالرُّمْحِ فَقَالَ : اللَّہُ أَکْبَرُ فُزْتُ وَرَبِّ الْکَعْبَۃِ فَلُحِقَ الرَّجُلُ فَقُتِلَ کُلُّہُمْ إِلاَّ الأَعْرَجَ کَانَ فِی رَأْسِ الْجَبَلِ قَالَ إِسْحَاقُ فَحَدَّثَنِی أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ قَالَ أُنْزِلَ عَلَیْنَا ثُمَّ کَانَ مِنَ الْمَنْسُوخِ إِنَّا قَدْ لَقِینَا رَبَّنَا فَرَضِیَ عَنَّا وَأَرْضَانَا فَدَعَا رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - سَبْعِینَ صَبَاحًا عَلَی رِعْلٍ وَذَکْوَانَ وَبَنِی لِحْیَانَ وَعُصَیَّۃَ عَصَتِ اللَّہَ وَرَسُولَہُ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُوسَی بْنِ إِسْمَاعِیلَ ۔ [صحیح۔ بخاری ٤٠٩١]
(١٨٨٢٢) حضرت انس بن مالک (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے ماموں حرام جو ام سلیم کے بھائی تھے، ان ستر آدمیوں میں روانہ کیا جو بئر ممونہپر قتل کردیے گئے۔ مشرکین کا رئیس عامر بن طفیل نبی کے پاس آیا، اس نے کہا : میں تجھے تین چیزوں میں اختیار دیتا ہوں، 1 آپ کے لیے بدر اور میرے ساتھی گھروں میں رہنے والے لوگ، 2 آپ کے بعد میں خلیفہ ہوں گا، 3 میں تیرے ساتھ ایک ہزار سرخ وسفید رنگت والے نوجوانوں کے ساتھ جنگ کروں گا۔ راوی کہتے ہیں : بنو فلاں کے گھر اس کو نیزہ مارا گیا یا بنوفلاں قبیلے کی عورت کے گھر میں وہ طاعون کی بیماری میں مبتلا ہوگیا، اس نے اپنا گھوڑا منگوایا تو عامر بن طفیل اپنے گھوڑے پر سوار ہی فوت ہوگیا، تو ام سلیم کے بھائی حرام اور اس کے ساتھ دو شخص اور بھی چلے، ایک لنگڑا اور ایک بنو فلاں قبیلے کا شخص۔ راوی کہتے ہیں کہ وہ دونوں میرے قریب آگئے۔ میں ان کے پاس گیا اور کہا : اگر تم نے مجھے پناہ دے دی تو تمہیں ملے گا اور اگر انھوں نے مجھے قتل کردیا تو تم اپنے ساتھیوں کے پاس چلے جانا۔ حرام ان کے پاس آگئے، کہنے لگے : میں تمہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا پیغام دیتا ہوں۔ کیا تم ایمان لاؤ گے، انھوں نے حامی بھری تو حرام نے ان کو وعظ شروع کردیا جبکہ انھوں نے کسی شخص کو پیچھے سے اتارا اس نے نیزہ مار کر حرام کو ہلاک کردیا۔ ھمام کہتے ہیں : میرا گمان ہے کہ جب اسے نیزہ لگا، اس نے کہا : اللہ اکبر رب کعبہ کی قسم میں کامیاب ہوگیا، اس شخص نے باقی افراد کو بھی قتل کر ڈالا، سوائے اعرج کے، کیونکہ وہ پہاڑ کی چوٹی پر تھے۔
(ب) حضرت انس بن مالک (رض) فرماتے ہیں کہ وہ ہمارے پاس لایا گیا، پھر یہ بات منسوخ ہوگئی کہ ہماری ملاقات اللہ رب العزت سے ہوئی، وہ ہم سے راضی اور ہم اس سے راضی تھے، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ٧٠ دن رعل وذکوان بنو لحیان قبیلوں پر بدعا کی کیونکہ انھوں نے اللہ ورسول کی نافرمانی کی تھی۔