(١٨٨٢٩) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ بْنِ الْحَسَنِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِیسَی حَدَّثَنَا أَبُو حُذَیْفَۃَ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنِ الْبَرَائِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : صَالَحَ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - الْمُشْرِکِینَ یَوْمَ الْحُدَیْبِیَۃِ عَلَی ثَلاَثَۃِ أَشْیَائَ عَلَی أَنَّ مَنْ أَتَاہُ مِنَ الْمُشْرِکِینَ رَدَّہُ إِلَیْہِمْ وَمَنْ أَتَاہُمْ مِنَ الْمُسْلِمِینَ لَمْ یَرُدُّوہُ وَعَلَی أَنْ یَدْخُلَہَا مِنْ قَابِلٍ فَیُقِیمُ بِہَا ثَلاَثَۃَ أَیَّامٍ وَلاَ یَدْخُلَہَا إِلاَّ بِجُلُبَّانِ السِّلاَحِ السَّیْفِ وَالْقَوْسِ وَنَحْوِہِ فَجَائَ أَبُو جَنْدَلٍ یَحْجُلُ فِی قُیُودِہِ فَرَدَّہُ إِلَیْہِمْ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی حُذَیْفَۃَ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
(١٨٨٢٩) حضرت براء فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مشرکین سے تین باتوں پر صلح حدیبیہ کی :1 جو مشرکین میں سے آپ کے پاس آئے گا آپ واپس کریں گے، 2 جو مسلمان کفار مکہ کے پاس آجائے اسے واپس نہ کیا جائے گا، 3 نیز آپ آئندہ سال مکہ مکرمہ میں داخل ہوں گے اور وہاں تین دن قیام کریں گے اور ہتھیار تلوار وغیرہ کمان میں ڈال کر آئیں گے۔ جب ابو جندل بیڑیوں میں چلتا ہوا آیا تو آپ نے اسے کفار کی جانب واپس کردیا۔