(١٨٨٣٠) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ الْمُقْرِء أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا ہُدْبَۃُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - لَمَّا صَالَحَ قُرَیْشًا یَوْمَ الْحُدَیْبِیَۃِ قَالَ لِعَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : اکْتُبْ بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ ۔ فَقَالَ سُہَیْلُ بْنُ عَمْرٍو : لاَ نَعْرِفُ الرَّحْمَنَ الرَّحِیمَ اکْتُبْ بِاسْمِکَ اللَّہُمَّ فَقَالَ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - لِعَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : اکْتُبْ بِاسْمِکَ اللَّہُمَّ ۔ فَقَالَ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - لِعَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : اکْتُبْ ہَذَا مَا صَالَحَ عَلَیْہِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّہِ ۔ فَقَالَ سُہَیْلُ بْنُ عَمْرٍو : لَوْ نَعْلَمُ أَنَّکَ رَسُولُ اللَّہِ لَصَدَّقْنَاکَ وَلَمْ نُکَذِّبْکَ اکْتُبِ اسْمَکَ وَاسْمَ أَبِیکَ ۔ فَقَالَ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - لِعَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : اکْتُبْ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ ۔ وَکَتَبَ مَنْ أَتَانَا مِنْکُمْ رَدَدْنَاہُ عَلَیْکُمْ وَمَنْ أَتَاکُمْ مِنَّا تَرَکْنَاہُ عَلَیْکُمْ فَقَالُوا : یَا رَسُولَ اللَّہِ نُعْطِیہِمْ ہَذَا قَالَ : مَنْ أَتَاہُمْ مِنَّا فَأَبْعَدَہُ اللَّہُ وَمَنْ أَتَانَا مِنْہُمْ فَرَدَدْنَاہُ عَلَیْہِمْ جَعَلَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ لَہُ فَرَجًا وَمَخْرَجًا ۔
أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ عَفَّانَ عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَۃَ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
(١٨٨٣٠) حضرت انس (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حدیبیہ کے دن جب قریش سے صلح کی تو حضرت علی (رض) سے فرمایا : لکھ، میں اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے تو سھیل بن عمرو نے کہا : ہم رحمنورحیم کو نہیں جانتے، آپ لکھیں، اے اللہ ! تیرے نام سے ابتدا ہے تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت علی (رض) سے فرمایا لکھ کہ میں اے اللہ تیرے نام سے شروع کرتا ہوں، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت علی (رض) سے فرمایا : لکھو کہ اس معاہدہ میں محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صلح کی ہے تو سھیل بن عمرو نے فورا اعتراض کردیا کہ اگر ہم آپ کو اللہ کا رسول تسلیم کرتے تو آپ کی تصدیق کرتے، تکذیب کبھی نہ کرتے، آپ اپنا اور والد کا نام تحریر کریں تو آپ نے فرمایا : اے علی ! لکھو، محمد بن عبداللہ اور یہ شرط تحریر کی۔ تمہاری آدمی ہم واپس کردیں گے لیکن ہمارا آدمی واپس نہ کیا جائے گا، صحابہ نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم انھیں دے دیں گے ؟ فرمایا : جو ہم سے گیا اللہ نے اسے ہم سے دور کردیا اور جس کو ہم واپس کریں گے، اس کے لیے اللہ راستہ نکال دے گا۔