(١٨٨٣٥) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِی الزُّہْرِیُّ قَالَ : دَخَلْتُ عَلَی عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ وَقَدْ کَتَبَ إِلَیْہِ ابْنُ أَبِی ہُنَیْدَۃَ یَسْأَلَہُ عَنْ قَوْلِ اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ {إِذَا جَائَ کُمُ الْمُؤْمِنَاتُ مُہَاجِرَاتٍ فَامْتَحِنُوہُنَّ } [المتتحنۃ ١٠] فَکَتَبَ إِلَیْہِ عُرْوَۃُ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - کَانَ صَالَحَ أَہْلَ الْحُدَیْبِیَۃِ وَشَرَطَ لَہُمْ أَنَّہُ مَنْ أَتَاہُ بِغَیْرِ إِذْنِ وَلِیِّہِ رَدَّہُ عَلَیْہِمْ فَلَمَّا ہَاجَرَ الْمُسْلِمَاتُ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - أَمَرَ ہُ اللَّہُ بِامْتِحَانِہِنَّ فَإِنْ کُنَّ جِئْنَ رَغْبَۃً فِی الإِسْلاَمِ لَمْ یَرُدَّہُنَّ عَلَیْہِمْ قَالَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ { فَإِنْ عَلِمْتُمُوہُنَّ مُؤْمِنَاتٍ فَلاَ تَرْجِعُوہُنَّ إِلَی الْکُفَّارِ } [المتتحنۃ ١٠] فَحَبَسَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - النِّسَائَ وَرَدَّ الرِّجَالَ ۔ [حسن ]
(١٨٨٣٥) زہری کہتے ہیں : میں عروہ بن زبیر کے پاس آیا تو ابن ابی ہنیدہ نے ان سے اللہ کے اس فرمان کے بارے میں پوچھا : { اِذَا جَائَکُمُ الْمُؤْمِنَاتُ مُہَاجِرَاتٍ فَامْتَحِنُوْہُنَّ } [المتتحنۃ ١٠] ” جب آپ کے پاس مومنہ عورتیں ہجرت کر کے آئیں تو ان کا امتحان کرلیا کرو “ عروہ بن زبیر نے انھیں جواب لکھا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جب صلح حدیبیہ کی تو اس میں شرط تھی کہ جو بھی اپنے ولی کی اجازت کے بغیر آئے گا آپ اس کو واپس کریں گے لیکن جب مسلمان عورتیں ہجرت کر کے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئیں تو اللہ نے حکم دیا اگر وہ اسلام میں رغبت کرتے ہوئے آجائیں تو ان کا امتحان کرلیا کرو { فَاِنْ عَلِمْتُمُوْہُنَّ مُؤْمِنَاتٍ فَلاَ تَرْجِعُوْہُنَّ اِلَی الْکُفَّارِ } [المتتحنۃ ١٠] اگر تمہیں معلوم ہوجائے کہ وہ مومنہ ہیں تو کفار کی جانب واپس نہ کرو۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عورتوں کو روک لیا اور مردوں کو واپس کردیا۔