(۱۸۸۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ حَدَّثَنَا أَشْعَثُ بْنُ سُلَیْمٍ عَنْ أَبِیہِ قَالَ: أَقْبَلْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ مِنْ عَرَفَاتٍ إِلَی الْمُزْدَلِفَۃِ ، فَلَمْ یَکُنْ یَفْتُرُ مِنَ التَّکْبِیرِ وَالتَّہْلِیلِ حَتَّی أَتَیْنَا الْمُزْدَلِفَۃَ ، فَأَذَّنَ وَأَقَامَ أَوْ أَمَرَ إِنْسَانًا فَأَذَّنَ وَأَقَامَ ، فَصَلَّی بِنَا الْمَغْرِبَ ثَلاَثَ رَکَعَاتٍ ، ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَیْنَا فَقَالَ: الصَّلاَۃَ فَصَلَّی بِنَا الْعِشَائَ رَکْعَتَیْنِ ، ثُمَّ دَعَا بِعَشَائِہِ۔
قَالَ وَأَخْبَرَنِی عِلاَجُ بْنُ عَمْرٍو بِمِثْلِ حَدِیثِ أَبِی عَنِ ابْنِ عُمَرَ فَقِیلَ لاِبْنِ عُمَرَ فِی ذَلِکَ فَقَالَ: صَلَّیْتُ مَعَ النَّبِیِّ -ﷺ- ہَکَذَا۔
وَرُوِیَ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَعَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّہُمَا صَلَّیَا کُلَّ وَاحِدَۃٍ مِنَ الصَّلاَتَیْنِ فِی وَقْتِ الْعِشَائِ مَفْصُولَتَیْنِ بِأَذَانٍ وَإِقَامَۃٍ۔ [صحیح۔ أخرجہ ابو داؤد ۱۹۳۳]
(١٨٨٥) (الف) اشعث بن سلیم اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ میں ابن عمر (رض) کے ساتھ عرفات سے مزدلفہ آیا، ہم مسلسل اللہ اکبر اور لا الٰہ الا اللہ کا ذکر کرتے ہوئے مزدلفہ تک آئے انھوں نے اذان دی اور اقامت کہی یا کسی شخص کو حکم دیا، اس نے اذان دی اور اقامت کہی، پھر انھوں نے ہمیں مغرب کی تین رکعتیں پڑھائیں، پھر ہماری طرف متوجہ ہوئے، پھر عشا کی نماز ہمیں دو رکعتیں پڑھائیں، پھر رات کا کھانا منگوایا۔ (ب) علاج بن عمرو کی حدیث میں ہے کہ میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ اسی طرح نماز پڑھی۔ (ج) سیدنا عمر بن خطاب اور عبداللہ بن مسعود (رض) سے روایت ہے کہ انھوں نے عشا کے وقت میں دو نمازیں الگ الگ ایک اذان اور ایک اقامت سے پڑھیں۔