(۱۸۹۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ: أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مَرْزُوقٍ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ الزَّہْرَانِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی ذِئْبٍ عَنْ سَعِیدٍ الْمَقْبُرِیِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ عَنْ أَبِیہِ قَالَ: حُبِسْنَا یَوْمَ الْخَنْدَقِ عَنِ الصَّلاَۃِ حَتَّی کَانَ بَعْدَ الْمَغْرِبِ بِہَوِیٍّ مِنَ اللَّیْلِ حَتَّی کُفِینَا ، وَذَلِکَ قَوْلُ اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ {وَکَفَی اللَّہُ الْمُؤْمِنِینَ الْقِتَالَ وَکَانَ اللَّہُ قَوِیًّا عَزِیزًا} فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- بِلاَلاً فَأَقَامَ الصَّلاَۃَ فَصَلَّی الظُّہْرَ ، فَأَحْسَنَ صَلاَتَہَا کَمَا کَانَ یُصَلِّیہَا ، ثُمَّ أَمَرَہُ فَأَقَامَ فَصَلَّی الْعَصْرَ کَذَلِکَ ، ثُمَّ أَمَرَہُ فَأَقَامَ فَصَلَّی الْمَغْرِبَ کَذَلِکَ ، ثُمَّ أَمَرَہُ فَأَقَامَ فَصَلَّی الْعِشَائَ کَذَلِکَ ، وَذَلِکَ قَبْلَ أَنْ یُنْزِلَ اللَّہُ تَعَالَی فِی صَلاَۃِ الْخَوْفِ {فَرِجَالاً أَوْ رُکْبَانًا}[البقرۃ: ۲۳۹]
وَہَکَذَا رَوَاہُ الشَّافِعِیُّ فِی الْجَدِیدِ عَنِ ابْنِ أَبِی فُدَیْکٍ عَنِ ابْنِ أَبِی ذِئْبٍ وَرَوَاہُ أَبُو دَاوُدَ الطَّیَالِسِیُّ عَنِ ابْنِ أَبِی ذِئْبٍ بِمَعْنَاہُ وَقَالَ فِی الْحَدِیثِ: فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- بِلاَلاً فَأَقَامَ لِکُلِّ صَلاَۃٍ إِقَامَۃً۔
وَرَوَاہُ الشَّافِعِیُّ فِی الْقَدِیمِ عَنْ غَیْرِ وَاحِدٍ عَنِ ابْنِ أَبِی ذِئْبٍ لَمْ یُسَمِّ أَحَدًا مِنْہُمْ وَقَالَ فِی الْحَدِیثِ: فَأَمَرَ بِلاَلاً فَأَذَّنَ وَأَقَامَ فَصَلَّی الظُّہْرَ ، ثُمَّ أَمَرَہُ فَأَقَامَ فَصَلَّی الْعَصْرَ ، ثُمَّ أَمَرَہُ فَأَقَامَ فَصَلَّی الْمَغْرِبَ ، ثُمَّ أَمَرَہُ فَأَقَامَ فَصَلَّی الْعِشَائَ۔
وَہَکَذَا رَوَاہُ أَبُو عُبَیْدَۃَ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ عَنْ أَبِیہِ فِی ہَذِہِ الْقِصَّۃِ فِی إِحْدَی الرِّوَایَتَیْنِ عَنْہُ إِلاَّ أَنَّ أَبَا عُبَیْدَۃَ لَمْ یُدْرَکْ أَبَاہُ وَہُوَ مُرْسَلٌ جَیِّدٌ۔ [صحیح۔ أخرجہ النسائی ۶۶۱]
(١٨٩١) (الف) سیدنا عبد الرحمن بن ابی سعید خدری (رض) اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ ہم کو خندق کے دن نماز سے روک دیا گیا یہاں تک کہ مغرب کے بعد جب رات چھا گئی تو ہمیں وقت ملا اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے { وَکَفَی اللَّہُ الْمُؤْمِنِینَ الْقِتَالَ وَکَانَ اللَّہُ قَوِیًّا عَزِیزًا } [الاحزاب : ٢٥] تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بلال (رض) کو حکم دیا، انھوں نے نماز کی اقامت کہی تو آپ نے ظہر کی نماز پڑھائی اچھے انداز کے ساتھ نماز پڑھائی جس طرح پڑھا کرتے تھے۔ پھر حکم دیا تو انھوں نے اقامت کہی، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسی طرح عصر کی نماز پڑھائی، پھر ان کو حکم دیا تو انھوں نے اقامت کہی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسی طرح مغرب کی نماز پڑھائی، پھر ان کو حکم دیا اور اسی طرح عشا کی نماز پڑھائی اور یہ حکم خوف کی نماز نازل ہونے سے پہلے ہے۔ { فَرِجَالاً أَوْ رُکْبَانًا }[البقرۃ : ٢٣٩]
(ب) امام شافعی نے قول جدید میں ابن ابی ذئب سے اسی کے ہم معنی نقل کیا ہے، فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بلال (رض) کو حکم دیا تو انھوں نے ہر نماز کے لیے اقامت کہی۔
(ج) ابن أبی ذئب سے روایت ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بلال (رض) کو حکم دیا تو انھوں نے اذان دی اور اقامت کہی، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ظہر کی نماز پڑھائی، پھر انھیں حکم دیا، انھوں نے اقامت کہی، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عصر کی نماز پڑھائی، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں حکم دیا تو انھوں نے اقامت کہی، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مغرب کی نماز پڑھائی، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں حکم دیا تو انھوں نے اقامت کہی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عشا کی نماز پڑھائی۔
(د) اسی طرح ابو عبیدہ بن عبداللہ بن مسعود اپنے والد سے منقول دو روایات میں سے ایک میں فرماتے ہیں، لیکن انھوں اپنے سے نقل نہیں کیا۔ یہ روایت مرسل ہے۔