(۱۸۹۲) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو مُحَمَّدٍ: جُنَاحُ بْنُ نَذِیرِ بْنِ جُنَاحٍ الْقَاضِی بِالْکُوفَۃِ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرِ بْنُ دُحَیْمٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدٍ یَعْنِی ابْنَ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ أَخْبَرَنَا أَبُو الزُّبَیْرِ عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنْ أَبِی عُبَیْدَۃَ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّہِ: إِنَّ الْمُشْرِکِینَ شَغَلُوا النَّبِیَّ -ﷺ- عَنْ أَرْبَعِ صَلَوَاتٍ یَوْمَ الْخَنْدَقِ حَتَّی ذَہَبَ مِنَ اللَّیْلِ مَا شَائَ اللَّہُ ، فَأَمَرَ بِلاَلاً فَأَذَّنَ وَأَقَامَ ، فَصَلَّی الظُّہْرَ ، ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّی الْعَصْرَ ، ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّی الْمَغْرِبَ ، ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّی الْعِشَائَ۔
ہَکَذَا رَوَاہُ جَمَاعَۃٌ عَنْ ہُشَیْمِ بْنِ بَشِیرٍ عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ۔
وَرَوَاہُ ہِشَامٌ الدَّسْتَوَائِیُّ عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ وَاخْتُلِفَ عَلَیْہِ فِی الأَذَانِ مِنْہُمْ مَنْ حَفِظَہُ عَنْہُ وَمِنْہُمْ مَنْ لَمْ یَحْفَظْہُ، وَرَوَاہُ الأَوْزَاعِیُّ عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ فَقَالَ: یُتَابِعُ بَعْضُہَا بَعْضًا بِإِقَامَۃٍ إِقَامَۃٍ۔ [حسن لغیرہٖ۔ أخرجہ الترمذی ۱۷۹]
(١٨٩٢) (الف) ابی عبیدہ سے روایت ہے کہ عبداللہ (رض) نے فرمایا کہ مشرکین نے خندق کے دن نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو چار نمازوں سے مشغول کردیا، یہاں تک کہ رات کا کافی حصہ گزر گیا، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بلال (رض) کو حکم دیا تو انھوں نے اذان دی اور اقامت کہی۔ آپ نے ظہر کی نماز پڑھائی، پھر انھوں نے اقامت کہی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عصر کی نماز پڑھائی، پھر انھوں نے اقامت کہی تو آپ نے مغرب کی نماز پڑھائی ‘ پھر انھوں نے اقامت کہی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عشا کی نماز پڑھائی۔
(ب) ہشام دستوائی نے ابو زبیر سے روایت کی ہے انمیں اذان سے متعلق اختلاف کیا گیا۔ بعض نے ان سے یاد کیا اور بعض نے نہیں۔ امام اوزاعی ابو زبیر سے نقل فرماتے ہیں کہ بعض نے بعض کی ایک ایک اقامت میں متابعت کی ہے۔