hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 18933

.

سنن البيهقي

18933
Sunan Al Bayhaqi
(١٨٩٢٧) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِیُّ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ عَامِرٍ عَنْ شُعْبَۃَ عَنْ سَعِیدِ بْنِ مَسْرُوقٍ عَنْ عَبَایَۃَ بْنِ رِفَاعَۃَ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِیجٍ عَنْ جَدِّہِ رَافِعِ بْنِ خَدِیجٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قُلْنَا : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّا لاَقُو الْعَدُوِّ غَدًا لَیْسَ مَعَنَا مُدًی قَالَ : مَا أَنْہَرَ الدَّمَ وَذُکِرَ اسْمُ اللَّہِ فَکُلْ لَیْسَ السِّنَّ وَالظُّفُرَ أَمَّا السِّنُّ فَعَظْمٌ وَأَمَّا الظُّفُرُ فَمُدَی الْحَبَشَۃِ ۔ قَالَ : وَأَصَابَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - نَہْبًا فَنَدَّ مِنْہَا بَعِیرٌ فَسَعَوْا لَہُ فَلَمْ یَسْتَطِیعُوہُ فَرَمَاہُ رَجُلٌ بِسَہْمٍ فَحَبَسَہُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : إِنَّ لِہَذِہِ الإِبِلِ أَوْ قَالَ النَّعَمِ أَوَابِدَ کَأَوَابِدِ الْوَحْشِ فَمَا غَلَبَکُمْ بِہَا فَاصْنَعُوا بِہَا ہَکَذَا ۔ وَتَرَدَّی بَعِیرٌ فِی بِئْرٍ فَلَمْ یَسْتَطِیعُوا أَنْ یَنْحَرُوہُ إِلاَّ مِنْ قِبَلِ شَاکِلَتِہِ فَاشْتَرَی مِنْہُ ابْنُ عُمَرَ عَشِیرًا بِدِرْہَمَیْنِ وَقَالَ لَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ وَأَبُو سَعِیدٍ فِی الْفَوَائِدِ تَعْشِیرًا۔ أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ وَمُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ شُعْبَۃَ وَغَیْرِہِ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
(١٨٩٢٧) عبایہ بن رفاعہ اپنے دادا رافع بن خدیج سے نقل فرماتے ہیں کہ اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! کل ہم دشمن سے ملنے والے ہیں۔ ہمارے پاس چھری نہیں ہے۔ فرمایا : جو خون بہائے اور جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو کھا لیں لیکن دانت اور ناخن سے ذبح نہ کریں، کیونکہ دانت ہڈی ہے جبکہ ناخن حبشیوں کی چھری ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مال غنیمت ملا جس میں سے ایک اونٹ بھاگ گیا۔ صحابہ نے پکڑنے کی کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہوئے تو ایک شخص نے تیر مار کر روک لیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بعض اونٹ بھاگ جاتے ہیں جس طرح جنگلی جانور ہوتے ہیں، اگر ان میں کوئی قابو نہ آئے تو اسے اس طرح تیر مارا جائے، وہ اونٹ کنویں میں گرگیا۔ صحابہ اس کو گردن کی جانب سے نحر نہ کرسکے تو حضرت عبداللہ بن عمر (رض) نے دو درھم کے بدلے خرید لیا۔