(١٨٩٣٦) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَہْلِ بْنِ بَحْرٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ مَسْرُوقٍ عَنْ عَبَایَۃَ بْنِ رِفَاعَۃَ عَنْ جَدِّہِ رَافِعٍ قَالَ سُفْیَانُ ثُمَّ حَدَّثَنِیہِ بَعْدُ عُمَرُ بْنُ سَعِیدِ بْنِ مَسْرُوقٍ َنْ أَبِیہِ عَنْ عُبَایَۃَ بْنِ رِفَاعَۃَ عَنْ جَدِّہِ قَالَ قُلْنَا : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّا لاَقُو الْعَدُوِّ غَدًا وَلَیْسَ مَعَنَا مُدًی أَفَنُذَکِّی بِاللِّیطِ ؟ فَقَالَ : مَا أَنْہَرَ الدَّمَ وَذُکِرَ اسْمُ اللَّہِ فَکُلُوا إِلاَّ مَا کَانَ مِنْ ظُفُرٍ أَوْ سِنٍّ فَإِنَّ السِّنَّ عَظْمٌ مِنَ الإِنْسَان وَالظُّفُرَ مُدَی الْحَبَشِ ۔
قَالَ : وَأَصَبْنَا إِبِلاً وَغَنَمًا فَکُنَّا نَعْدِلُ الْبَعِیرَ بِعَشْرٍ مِنَ الْغَنَمِ فَنَدَّ عَلَیْنَا بَعِیرٌ مِنْہَا فَرَمَیْنَاہُ بِالنَّبْلِ حَتَّی وَہَصْنَاہُ قَالَ فَسَأَلْنَا رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَقَالَ : إِنَّ لِہَذِہِ الإِبِلِ أَوَابِدَ کَأَوَابِدِ الْوَحْشِ فَإِذَا نَدَّ مِنْہَا شَیْئٌ فَاصْنَعُوا بِہِ ذَلِکَ وَکُلُوا ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنِ ابْنِ أَبِی عُمَرَ ۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ ]
(١٨٩٣٦) عبایہ بن رفاعہ اپنے دادا سے نقل فرماتے ہیں کہ ہم نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ہم کل دشمن سے ملاقات کرنے والے ہیں اور ہمارے پاس چھریاں نہیں ہیں، کیا ہم کسی لکڑی سے ذبح کرلیں ؟ فرمایا : جو چیز خون بہا دے اور اس پر بسم اللہ واللہ اکبر پڑھا گیا ہو تو کھالو، لیکن جو ناخن، دانت سے ذبح کیا گیا ہو نہ کھاؤ، کیونکہ دانت انسانی ہڈی ہے جبکہ ناخن حبشہ کی چھری ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ ہمیں اونٹ اور بکریاں ملیں اور ایک اونٹ دس بکریوں کے برابر تھا۔ ایک اونٹ بھاگ گیا جسے تیر مار کر روکا گیا، تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ بعض اونٹ جنگلی جانوروں کی طرح ہوتے ہیں۔ جب کوئی اونٹ بھاگ جائے تو اس کے ساتھ ایسا ہی سلوک کرو اور کھالو۔