(١٨٩٦٠) وَرَوَاہُ الْحُمَیْدِیُّ عَنْ سُفْیَانَ فَلَمْ یَذْکُرِ السَّاحِلَ وَقَالَ : فَأَخَذَ أَبُو عُبَیْدَۃَ ضِلَعًا مِنْ أَضْلاَعِہِ فَنَصَبَہُ ثُمَّ نَظَرَ أَطْوَلَ رَجُلٍ وَأَعْظَمَ جَمَلٍ فِی الْجَیْشِ فَأَمَرَہُ أَنْ یَرْکَبَ الْجَمَلَ ثُمَّ یَمُرُّ تَحْتَہُ فَفَعَلَ فَمَرَّ تَحْتَہُ فَأَتَیْنَا النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَأَخْبَرْنَاہُ فَقَالَ : ہَلْ مَعَکُمْ مِنْہُ شَیْئٌ؟ ۔ قُلْنَا : لاَ ۔
أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا الْحُمَیْدِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ فَذَکَرَہُ ۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ ]
(١٨٩٦٠) حمیدی سفیان سے نقل فرماتے ہیں کہ اس نے ساحل کا ذکر نہیں کیا فرماتے ہیں کہ ابو عبیدہ نے اس کی پسلیوں میں سے ایک پسلی لے کر کھڑی کی۔ پھر ایک لمبے آدمی اور لشکر میں بڑے اونٹ کا انتخاب کیا اور اس کو حکم دیا کہ وہ سوار ہو کے اس کے نیچے سے گزر جائے تو وہ گزر گیا۔ ہم نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بتایا تو آپ نے پوچھا : کیا تمہارے پاس کچھ موجود ہے ؟ ہم نے کہا : اب تو کچھ موجود نہیں۔