(١٨٩٦٢) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ الْقَاضِی حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ یُونُسَ حَدَّثَنَا زُہَیْرٌ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَیْرِ عَنْ جَابِرٍ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو النَّضْرِ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی أَخْبَرَنَا أَبُو خَیْثَمَۃَ عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَأَمَّرَ عَلَیْنَا أَبَا عُبَیْدَۃَ بْنُ الْجَرَّاحِ نَتَلَقَّی عِیرًا لِقُرَیْشٍ وَزَوَّدَنَا جِرَابًا مِنْ تَمْرٍ لَمْ یَجِدْ لَنَا غَیْرَہُ فَکَانَ أَبُو عُبَیْدَۃَ یُعْطِینَا تَمْرَۃً تَمْرَۃً فَقُلْنَا : کَیْفَ کُنْتُمْ تَصْنَعُونَ بِہَا ؟ قَالَ : نَمَصُّہَا کَمَا یَمَصُّ الصَّبِیُّ ثُمَّ نَشْرَبُ عَلَیْہَا مِنَ الْمَائِ فَیَکْفِینَا یَوْمَنَا إِلَی اللَّیْلِ وَکُنَّا نَضْرِبُ الْخَبَطَ بِعِصِیِّنَا ثُمَّ نَبُلُّہُ بِالْمَائِ فَنَأْکُلُہُ فَأَصَبْنَا عَلَی سَاحِلِ الْبَحْرِ مِثْلَ الْکَثِیبِ الضَّخْمِ دَابَّۃً تُدْعَی الْعَنْبَرُ فَقَالَ أَبُو عُبَیْدَۃَ : مَیْتَۃٌ ثُمَّ قَالَ : لاَ بَلْ نَحْنُ رُسُلُ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَفِی سَبِیلِ اللَّہِ وَقَدِ اضْطُرِرْتُمْ فَکُلُوا فَأَکَلْنَا مِنْہُ شَہْرًا وَنَحْنُ ثَلاَثُمِائَۃٍ حَتَّی سَمِنَّا وَلَقَدْ کُنَّا نَغْتَرِفُ مِنْ وَقْبِ عَیْنِہِ بِالْقِلاَلِ الدُّہْنَ وَنَقْطَعُ مِنْہُ الْفِدَرَ کَالثَّوْرِ وَلَقَدْ أَخَذَ أَبُو عُبَیْدَۃَ مِنَّا ثَلاَثَۃَ عَشَرَ رَجُلاً فَأَقَامَہُمْ فِی وَقْبِ عَیْنِہِ وَأَخَذَ ضِلَعًا مِنْ أَضْلاَعِہَا فَأَقَامَہَا ثُمَّ رَحَلَ أَعْظَمَ بَعِیرٍ فَمَرَّ تَحْتَہَا وَتَزَوَّدْنَا مِنْ لَحْمِہِ وَشَائِقَ فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِینَۃَ أَتَیْنَا رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَذَکَرْنَا ذَلِکَ لَہُ فَقَالَ : ہُوَ رِزْقٌ أَخْرَجَہُ اللَّہُ لَکُمْ فَہَلْ مَعَکُمْ مِنْ لَحْمِہِ شَیْئٌ فَتُطْعِمُونَا ۔ فَأَرْسَلْنَا إِلَی رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - مِنْہُ فَأَکَلَ مِنْہُ
لَفْظُ حَدِیثِ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی وَفِی رِوَایَۃِ أَحْمَدَ بْنِ یُونُسَ قَالَ : وَانْطَلَقْنَا عَلَی سَاحِلِ الْبَحْرِ فَرُفِعَ لَنَا عَلَی سَاحِلِ الْبَحْرِ کَہَیْئَۃِ الْکَثِیبِ الضَّخْمِ فَأَتَیْنَاہُ فَإِذَا دَابَّۃُ الْعَنْبَرِ وَقَالَ : لَقَدْ رَأَیْتُنَا نَغْتَرِفُ مِنْ عَیْنِہِ بِالْقِلاَلِ الدُّہْنَ وَنَقْتَطِعُ مِنْہُ الْفِدَرَ کَالثَّوْرِ أَوْ کَقَدْرِ الثَّوْرِ وَقَالَ : فَأَقْعَدَہُمْ فِی عَیْنَیْہِ وَقَالَ فِی آخِرِہِ فَأَرْسَلْنَا إِلَی رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَأَکَلَ ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی وَأَحْمَدَ بْنِ یُونُسَ ۔
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدٍ فِی کِتَابِ تَحْرِیمِ الْجَمْعِ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا الثَّقَفِیُّ وَہُوَ عَبْدُ الْوَہَّابِ عَنْ أَیُّوبَ عَنِ ابْنِ سِیرِینَ قَالَ سَأَلْتُ عَبِیدَۃَ عَنْ ذَبَائِحِ نَصَارَی بَنِی تَغْلِبَ فَقَالَ لاَ آکُلُ ذَبَائِحَہُمْ فَإِنَّہُمْ لَمْ یَتَمَسَّکُوا مِنْ نَصْرَانِیَّتِہِمْ إِلاَّ بُشُرْبِ الْخَمْرِ ۔ قَالَ الشَّافِعِیُّ ہَکَذَا أَحْفَظُہُ وَلاَ أَحْسَبُہُ أَوْ غَیْرَہُ إِلاَّ وَقَدْ بَلَغَ بِہَذَا الإِسْنَادِ عَلِیَّ بْنَ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ ۔ قَالَ الشَّیْخُ ُ وَ عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ لاَ شَکَّ فِیہِ فَقَدْ رَوَاہَ الشَّافِعِیُّ فِی کِتَابِ الضَّحَایَا عَنِ الثَّقَفِیِّ بِلاَ شَکٍّ ۔ [صحیح ]
(١٨٩٦٢) حضرت جابر (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابو عبیدہ کو ہمارا امیر مقرر کر کے بھیجا۔ تاکہ ہم قریش کے قافلوں کی نگرانی کرسکیں اور ہمارے پاس کھجوروں کی ایک تھیلی کے علاوہ کوئی زاد راہ نہ تھا تو ابو عبیدہ ہمیں صرف ایک ایک کھجور دیتے۔ ہم نے پوچھا : تم اس کا کیا کرتے تھے ؟ راوی کہتے ہیں : ہم اس کو چوستے جیسے بچہ چوستا ہے۔ پھر اس کے بعد پانی پی لیتے جو ہمیں ایک دن کے لیے کافی ہوتا اور ہم اپنی لاٹھیوں سے پتے جھاڑ کر پانی میں تر کر کے کھالیتے تو ہمیں ساحل سمندر پر ایک بڑے ٹیلے کی مانند ایک مچھلی نظر آئی ۔ اس کا نام عنبر تھا۔ ابو عبیدہ نے کہا : یہ مدد ہے۔ پھر کہنے لگے : ہم اللہ کے راستے میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قاصد ہیں ، مجبور کیے گئے ہیں کھاؤ، ہم تین سو افراد نے ایک مہینہ تک مچھلی کھائی۔ یہاں تک کہ ہم موٹے ہوگئے اور ہم اس مچھلی کی آنکھ کے گھڑے سے ایک گھڑا تیل کا نکال لیتے تھے اور اس سے بیل کی مانند ایک ٹکڑا کاٹ لیتے۔ ابو عبیدہ نے تیرہ آدمی لے کر آنکھ کے سوراخ میں کھڑے کردیے اور اس کی ایک پسلی کھڑی کر کے اس کے نیچے سے ایک بڑے اونٹ پر کجاوا رکھ کر گزار دیا اور ہم نے اس کا گوشت زادراہ کے لیے اختیار کرلیا۔ ہم نے مدینہ میں آ کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بتایا تو آپ نے فرمایا : یہ اللہ نے تمہارے لیے رزق نکالا تھا۔ کیا تمہارے پاس اس کا گوشت ہے، ہمیں بھی کھلاؤ تو کچھ حصہ ہم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف بھیجا تو آپ نے تناول فرمایا۔
(ب) احمد بن یونس کی روایت میں ہے کہ ہم ساحل سمندر پر چلے تو ہم نے ایک بڑے ٹیلے کی مانند کوئی چیز دیکھی۔ جب ہم اس کے قریب آئے تو وہ عنبر مچھلی تھی۔ ہم اس کی آنکھ کے سوارخ سے چربی کا ایک برتن نکال لیتے تھے اور ہم بیل کے مانند اس سے ٹکڑا کاٹ لیتے تھے۔ راوی کہتے ہیں کہ انھیں اس مچھلی کے آنکھ کے سوراخ میں بٹھایا گیا۔ اس حدیث کے آخر میں ہے کہ اس کا گوشت ہم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بھیجا تو آپ نے تناول فرمایا۔