(۱۹۰۰) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ أَبِی أُسَامَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ حَدَّثَنَا حَیْوَۃُ أَخْبَرَنَا عَیَّاشُ بْنُ عَبَّاسٍ أَنَّ کُلَیْبَ بْنَ صُبَیْحٍ حَدَّثَہُ أَنَّ الزِّبْرِقَانَ حَدَّثَہُ عَنْ عَمِّہِ عَمْرِو بْنِ أُمَیَّۃَ الضَّمْرِیِّ قَالَ: کُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فِی بَعْضِ أَسْفَارِہِ ، فَنَامَ وَلَمْ یُصَلِّ الصُّبْحَ حَتَّی طَلَعَتِ الشَّمْسُ ، فَلَمْ یَسْتَیْقِظْ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- وَلاَ أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِہِ حَتَّی آذَاہُمْ حَرُّ الشَّمْسِ، فَأَمَرَہُمْ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- أَنْ یَتَنَحَّوْا عَنْ ذَلِکَ الْمَکَانِ ، ثُمَّ أَمَرَ بِلاَلاً فَأَذَّنَ ، ثُمَّ صَلَّی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- رَکْعَتَیِ الْفَجْرِ ، وَأَمَرَ أَصْحَابَہُ فَصَلَّوْا رَکْعَتَیِ الْفَجْرِ ، ثُمَّ أَمَرَ بِلاَلاً فَأَقَامَ الصَّلاَۃَ فَصَلَّی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-۔ (ت) وَرُوِّینَا فِی ذَلِکَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَذِی مِخْبَرٍ الْحَبَشِیِّ وَعَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ مَرْفُوعًا إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ- [صحیح۔ أخرجہ ابو داؤد ۴۴۴]
(١٩٠٠) عمرو بن امیہ ضمری سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ کسی سفر میں تھے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سو گئے اور صبح کی نماز نہیں پڑھی، یہاں تک کہ سورج طلوع ہوگیا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے صحابہ میں سے کوئی بھی بیدار نہیں ہوا، جب سورج کی گرمی نے ان کو تکلیف دی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم دیا کہ اس جگہ سے کوچ کر جائیں، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بلال (رض) کو حکم دیا، انھوں نے اذان دی، پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فجر کی دو رکعتیں پڑھی اور اپنے صحابہ کو حکم دیا، انھوں نے بھی فجر کی دو رکعتیں پڑھی، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بلال (رض) کو حکم دیا تو انھوں نے نماز کی اقامت کہی اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز پڑھائی۔