(۱۹۰۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ یَعْنِی ابْنَ عَبْدِ الْحَکَمِ أَخْبَرَنَا أَنَسُ بْنُ عِیَاضٍ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ: أَنَّ زُیَیْدَ بْنَ الصَّلْتِ خَرَجَ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ إِلَی الْجُرْفِ ، فَنَظَرَ فَإِذَا ہُوَ قَدِ احْتَلَمَ فَقَالَ: وَاللَّہِ مَا أَظُنُّ إِلاَّ وَأَنَّی قَدِ احْتَلَمْتُ وَمَا شَعَرْتُ ، وَصَلَّیْتُ وَمَا اغْتَسَلْتُ۔ قَالَ: فَاغْتَسَلَ وَغَسَلَ مَا رَأَی فِی ثَوْبِہِ وَنَضَحَ مَا لَمْ یَرَ ، وَأَذَّنَ وَأَقَامَ ثُمَّ صَلَّی بَعْدَ ارْتِفَاعِ الضُّحَی مُتَمَکِّنًا۔ [ضعیف۔ أخرجہ عبد الرزاق ۳۶۴۴]
(١٩٠١) ہشام بن عروہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ زبید بن صلت عمر بن خطاب (رض) کے ساتھ جرف کی طرف نکلے۔ انھوں نے دیکھا کہ ان کو احتلام ہوگیا ہے۔ کہنے لگے : اللہ کی قسم ! میں گمان نہیں کرتا تھا مجھے احتلام ہوگیا ہے اور مجھے معلوم بھی نہیں تھا اور میں نے بغیر غسل کیے نماز پڑھی۔ پھر انھوں نے غسل کیا اور جو اپنے کپڑوں میں دیکھا اس کو دھویا اور جو نہیں دیکھا اس پر چھینٹے مارے، پھر اذان دی اور اقامت کہی، پھر انھوں نے سورج کے بلند کے ہونے کے بعد اطمینان سے نماز ادا کی۔