(١٩٠٠٩) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُونُسَ الضَّبِّیُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِیُّ حَدَّثَنَا زُہَیْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِیُّ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِیلِ بْنِ أَبِی طَالِبٍ عَنْ عَلِیِّ بْنِ الْحُسَیْنِ { لِکُلِّ أُمَّۃٍ جَعَلْنَا مَنْسَکًا ہُمْ نَاسِکُوہُ } [الحج ٦٧] قَالَ : ذِبْحٌ ہُمْ ذَابِحُوہُ حَدَّثَنِی أَبُو رَافِعٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - کَانَ إِذَا ضَحَّی اشْتَرَی کَبْشَیْنِ سَمِینَیْنِ أَمْلَحَیْنِ أَقْرَنَیْنِ وَإِذَا خَطَبَ وَصَلَّی ذَبَحَ أَحَدَ الْکَبْشَیْنِ بِنَفْسِہِ بِالْمُدْیَۃِ ثُمَّ یَقُولُ : اللَّہُمَّ ہَذَا عَنْ أُمَّتِی جَمِیعًا مَنْ شَہِدَ لَکَ بِالتَّوْحِیدِ وَشَہِدَ لِی بِالْبَلاَغِ ۔ ثُمَّ أَتَی بِالآخَرِ فَذَبَحَہُ ثُمَّ قَالَ : اللَّہُمَّ ہَذَا عَنْ مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ ۔ ثُمَّ یُطْعِمُہُمَا الْمَسَاکِینَ وَیَأْکُلُ ہُوَ وَأَہْلُہُ مِنْہُمَا فَمَکَثْنَا سِنِینَ قَدْ کَفَانَا اللَّہُ الْغُرْمَ وَالْمُؤْنَۃَ لَیْسَ أَحَدٌ مِنْ بَنِی ہَاشِمٍ یُضَحِّی۔
وَبِمَعْنَاہُ رَوَاہُ عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ عَمْرٍو الرَّقِّیُّ وَقَیْسُ بْنُ الرَّبِیعِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِیلٍ عَنْ عَلِیِّ بْنِ الْحُسَیْنِ عَنْ أَبِی رَافِعٍ عَنِ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) -۔ [ضعیف ]
(١٩٠٠٩) عبداللہ بن محمد بن عقیل بن ابی طالب حضرت علی بن حسین سے اللہ کے اس فرمان : { لِکُلِّ اُمَّۃٍ جَعَلْنَا مَنْسَکًا ھُمْ نَاسِکُوْہُ } [الحج ٦٧] ” ہم نے ہر امت کے لیے عبادت کا طریقہ مقرر کیا، جس طرح وہ عبادت کرتے ہیں۔ “ فرمایا : اس کے مطابق وہ ذبح کرنے والے ہیں۔ ابو رافع فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایسے دو مینڈھے جو خاکستری رنگت، سینگوں والے، موٹے تازے خریدے۔ خطبہ اور نماز کے بعد آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے ہاتھ سے چھری کے ساتھ ایک مینڈھا ذبح فرمایا۔ پھر فرمایا : اے اللہ ! یہ میری امت کی جانب سے ہے جو تیری وحدانیت اور میری رسالت کی گواہی دے۔ پھر دوسرا مینڈھا لایا گیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ذبح فرمایا : پھر فرمایا یہ محمد اور آل محمد کی جانب سے ہے۔ پھر مسکینوں کو گوشت کھلا دیا اور خود بھی اور گھر والوں کو بھی کھلایا۔ ہم دو سال ٹھہرے رہے کہ احد نے ہمارے قرض اور مشقت کو دور کردیا۔ بنو ہاشم میں سے کسی نے قربانی نہ کی تھی۔