(۱۹۰۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا ہَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ أَنَّ أَبَا عُشَّانَۃَ الْمَعَافِرِیَّ حَدَّثَہُ عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : ((یَعْجَبُ رَبُّکَ مِنْ رَاعِی غَنَمٍ فِی رَأْسِ شَظِیَّۃٍ لِلْجَبَلِ ، یُؤَذِّنُ بِالصَّلاَۃِ وَیُصَلِّی ، فَیَقُولُ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ: انْظُرُوا إِلَی عَبْدِی ہَذَا یُؤَذِّنُ وَیُقِیمُ لِلصَّلاَۃِ یَخَافُ مِنِّی قَدْ غَفَرْتُ لِعَبْدِی وَأَدْخَلْتُہُ جَنَّتِی))۔ [صحیح۔ أخرجہ ابو داؤد ۱۲۰۳]
(١٩٠٥) عقبہ بن عامر (رض) سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا کہ تیرا رب بکریوں کے چروا ہے سے پہاڑ کی بلندی چوٹی میں تعجب کرتا ہے جو نماز کی اذان دیتا ہے اور نماز پڑھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : میرے اس بندے کی طرف دیکھو اذان دیتا ہے اور نماز کی اقامت کہتا ہے، مجھ سے ڈرتا ہے، میں نے اپنے بندے کو معاف کردیا اور اس کو جنت میں داخل کردیا۔