(۱۹۰۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ: یَحْیَی بْنُ جَعْفَرٍ أَبِی طَالِبٍ بِبَغْدَادَ فِی سَنَۃِ ثَمَانِ وَسِتِّینَ وَمِائَتَیْنِ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی طَالِبٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ بْنُ عَطَائٍ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ التَّیْمِیُّ عَنْ أَبِی عُثْمَانَ النَّہْدِیِّ عَنْ سَلْمَانَ قَالَ: لاَ یَکُونُ رَجُلٌ بِأَرْضِ فِیٍّ فَیَتَوَضَّأُ أَوْ یَتَیَمَّمُ صَعِیدًا طَیِّبًا ، فَیُنَادِی بِالصَّلاَۃِ ثُمَّ یُقِیمُہَا فَیُصَلِّی - وَفِی حَدِیثِ أَبِی الْعَبَّاسِ فَیُقِیمُہَا - إِلاَّ أَمَّ مِنْ جُنُودِ اللَّہِ مَنْ لاَ یُرَی قُطْرَاہُ ، أَوْ قَالَ طَرَفَاہُ شَکَّ التَّیْمِیُّ۔ [صحیح۔ أخرجہ ابن أبی شیبۃ ۱۷۶۶]
(١٩٠٦) سلیمان سے روایت ہے کہ کوئی شخص کسی سائے والی زمین (جنگل وغیرہ) میں وضو کرتا ہے یا پاک مٹی سے تیمم کرتا ہے، پھر وہ نماز کے لیے اذان دیتا ہے، پھر اقامت کہتا ہے اور نماز پڑھتا ہے۔ سیدنا ابن عباس (رض) کی حدیث میں ہے : وہ اقامت کہتا ہے تو اللہ کے لشکروں کی امامت کر اتا ہے، جن کے کناروں کو دیکھا نہیں جاسکتا۔