(١٩٠٥٠) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو عُتْبَۃَ حَدَّثَنَا بَقِیَّۃُ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ زُفَرَ الْجُہَنِیُّ حَدَّثَنِی أَبُو الأَسَدِّ السُّلَمِیُّ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ قَالَ : کُنْتُ سَابِعَ سَبْعَۃٍ مَعَ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَجَمَعَ کُلُّ رَجُلٍ مِنَّا دِرْہَمًا فَاشْتَرَیْنَا أُضْحِیَّۃً بِسَبْعَۃِ دَرَاہِمَ فَقُلْنَا یَا رَسُولَ اللَّہِ لَقَدْ أَغْلَیْنَا بِہَا فَقَالَ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : إِنَّ أَفْضَلَ الضَّحَایَا أَغْلاَہَا وَأَنْفَسُہَا ۔ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - رَجُلاً یَأْخُذُ بِیَدٍ وَرَجُلاً بِیَدٍ وَرَجُلاً بِرِجْلٍ وَرَجُلاً بِرِجْلٍ وَرَجُلاً بِقَرْنٍ وَرَجُلاً بِقَرْنٍ وَذَبَحَہَا السَّابِعُ وَکَبَّرْنَا عَلَیْہَا جَمِیعًا۔ [ضعیف جدًا ]
(١٩٠٥٠) ابو اسد سلمی اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے نقل فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ساتواں تھا تو رسول اللہ نے ہمیں ایک ایک درہم دیا۔ ہم نے قربانیاں خریدیں اور عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! قربانیاں ذرامہنگی ہیں۔ فرمایا : زیادہ قیمت والی اور عمدہ قربانیاں افضل ہیں تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم دیا، کسی نے پاؤں، کسی نے ہاتھ پکڑ کر قربانیاں ذبح کردیں۔