(١٩٠٧٥) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَۃَ الشَّیْبَانِیُّ بِالْکُوفَۃِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بُرْدٍ الأَنْطَاکِیُّ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْحُنَیْنِیُّ قَالَ ذَکَرَہُ ہِشَامُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : جَائَ جِبْرِیلُ عَلَیْہِ السَّلاَمُ إِلَی النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَوْمَ الأَضْحَی فَقَالَ : کَیْفَ رَأَیْتَ نُسُکَنَا ہَذَا ؟ ۔ قَالَ : لَقَدْ بَاہَی بِہِ أَہْلُ السَّمَائِ وَاعْلَمْ یَا مُحَمَّدُ أَنَّ الْجَذَعَ مِنَ الضَّأْنِ خَیْرٌ مِنَ السَّیِّدِ مِنَ الإِبِلِ وَالْبَقَرِ وَلَوْ عَلِمَ اللَّہُ ذِبْحًا أَفْضَلَ مِنْہُ لَفَدَی بِہِ إِبْرَاہِیمَ عَلَیْہِ السَّلاَمُ ۔ وَرَوَاہُ أَیْضًا أَبُو جَعْفَرٍ السِّمْنَانِیُّ عَنْ إِسْحَاقَ زَادَ فِیہِ وَالْجِذْعُ مِنَ الضَّأْنِ خَیْرٌ مِنَ السَّیِّدِ مِنَ الْمَعِزِ ۔ وَإِسْحَاقُ یَنْفَرِدُ بِہِ وَفِی حَدِیثِہِ ضَعْفٌ۔ [منکر ]
(١٩٠٧٥) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ قربانی کے دن جبرائیل (علیہ السلام) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : ہماری ان قربانیوں کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے ؟ تو جبرائیل (علیہ السلام) نے کہا کہ آسمانوں والے بھی اس چیز پر فخر کرتے ہیں۔ اے محمد ! جان لو بھیڑ کا جذعہ، مینڈھا اونٹ، گائے سے بھی بہتر ہے۔ اگر اس سے بہتر کوئی قربانی ہوتی تو اللہ ابراہیم کو اس کا عوض مہیا کرتے۔
(ب) ابو جعفرمنانی اسحاق سے نقل فرماتے ہیں کہ بھیڑ کا جذعہ بکری کے مسنہ سے بہتر ہے۔