(١٩٠٨١) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ الأَصْبَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ الْحَسَنِ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَبِی عِیسَی حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أَبِی مُرَاوِحٍ الْغِفَارِیِّ عَنْ أَبِی ذَرٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - أَیُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : إِیمَانٌ بِاللَّہِ وَجِہَادٌ فِی سَبِیلِہِ ۔ قُلْتُ : أَیُّ الرَّقَابِ أَفْضَلُ قَالَ : أَغْلاَہَا ثَمَنًا وَأَنْفَسُہَا عِنْدَ أَہْلِہَا ۔ قَالَ قُلْتُ : فَإِنْ لَمْ أَفْعَلْ قَالَ : تُعِینُ صَانِعًا أَوْ تَصْنَعُ لأَخْرَقَ ۔ قُلْتُ : فَإِنْ لَمْ أَفْعَلْ قَالَ : تَدَعُ النَّاسَ مِنَ الشَّرِّ فَإِنَّہَا صَدَقَۃٌ تَصَدَّقُ بِہَا عَلَی نَفْسِکَ ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ مُوسَی وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ ہِشَامٍ ۔
[صحیح۔ متفق علیہ ]
(١٩٠٨١) حضرت ابو ذر (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا : کون سا عمل افضل ہے ؟ فرمایا : اللہ پر ایمان لانا اور اللہ کے راستہ میں جہاد کرنا۔ میں نے پوچھا : کون سی قربانی افضل ہے ؟ فرمایا : جس کی قیمت زیادہ ہو اور گھر والوں کے نزدیک پسندیدہ ہو۔ راوی کہتے ہیں : اگر میں یہ نہ کرسکوں ؟ تو فرمایا : کاریگر کی مدد کر یا جاہل کو کاریگر بنا دے۔ میں نے کہا : اگر یہ نہ کرسکوں ؟ فرمایا : لوگوں کو اپنے شر سے محفوظ کر دے۔ اس کے ذریعہ اپنے اوپر صدقہ کرو۔