(١٩٠٨٢) أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلَفِ بْنِ ہِشَامٍ حَدَّثَنَا خَلَفٌ حَدَّثَنَا بَقِیَّۃُ بْنُ الْوَلِیدِ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ زُفَرَ أَخْبَرَنِی أَبُو الأَسْوَدِ الأَنْصَارِیُّ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ قَالَ خَلَفٌ وَسَمَّاہُ بَقِیَّۃُ قَالَ : کُنْتُ سَابِعَ سَبْعَۃٍ مَعَ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَذَکَرَ الْحَدِیثَ فِی الأُضْحِیَّۃِ قَالَ فَقَالَ یَعْنِی النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : إِنَّ أَحَبَّ الضَّحَایَا إِلَی اللَّہِ أَغْلاَہَا وَأَسْمَنُہَا ۔ [ضعیف۔ تقدم برقم ١٩٠٥٠]
(١٩٠٨٢) ابو السود انصاری اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے نقل فرماتے ہیں کہ بقیہ نے اس کا نام لیا۔ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ساتواں تھا۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ کو محبوب قربانیاں وہ ہیں جن کی قیمت زیادہ ہو اور موٹی تازی ہوں۔