(١٩١٠١) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مُوسَی
(ح) قَالَ وَحَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ بَحْرٍ حَدَّثَنَا عِیسَی ہُوَ ابْنُ یُونُسَ الْمَعْنَی عَنْ ثَوْرٍ حَدَّثَنِی أَبُو حُمَیْدٍ الرُّعَیْنِیُّ أَخْبَرَنِی یَزِیدُ ذُو مِصْرَ قَالَ : أَتَیْتُ عُتْبَۃَ بْنَ عَبْدٍ السُّلَمِیَّ فَقُلْتُ یَا أَبَا الْوَلِیدِ إِنِّی خَرَجْتُ أَلْتَمِسُ الضَّحَایَا فَلَمْ أَجِدْ شَیْئًا یُعْجِبُنِی غَیْرَ ثَرْمَائَ فَکَرِہْتُہَا فَمَا تَقُولُ ؟ قَالَ : أَفَلاَ جِئْتَنِی بِہَا۔ قُلْتُ : سُبْحَانَ اللَّہِ تَجُوزُ عَنْکَ وَلاَ تَجُوزُ عَنِّی۔ قَالَ : نَعَمْ إِنَّکَ تَشُکُّ وَلاَ أَشُکُّ إِنَّمَا نَہَی رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - عَنِ الْمُصْفَرَۃِ وَالْمُسْتَأْصَلَۃِ وَالْبَخْقَائِ وَالْمُشَیِّعَۃِ وَالْکَسْرَائِ فَالْمُصْفَرَۃُ الَّتِی تُسْتَأْصَلُ أُذُنُہَا حَتَّی یَبْدُوَ سِمَاخُہَا وَالْمُسْتَأْصَلَۃُ قَرْنُہَا مِنْ أَصْلِہِ وَالْبَخْقَائُ الَّتِی تُبْخَقُ عَیْنُہَا وَالْمُشَیِّعَۃُ الَّتِی لاَ تَتْبَعُ الْغَنَمَ عَجَفًا وَضَعْفًا وَالْکَسْرَائُ الْکَسِیرُ ۔[صحیح ]
(١٩١٠١) عتبہ بن عبدسلمیٰ کہتے ہیں کہ میں نے کہا : اے ابو الولید میں قربانی کی تلاش میں نکلا تو میں نے کوئی قربانی نہ پائی جو مجھے پسند ہو لیکن کان کٹی ہوئی موجود تھی۔ اس کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں ؟ فرمایا : کیا آپ اس کو لے کر نہیں آئے ؟ میں نے پوچھا : اللہ پاک ہے اس کے لیے جبکہ میرے لیے جائز نہیں ہے ؟ فرماتے ہیں : تجھے شک ہے جبکہ مجھے شک نہیں ہے کیونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایسا جانور جس کا کان کاٹنے کے بعد اس کا سوراخ واضح ہوجائے اور سینگ جڑ سے اکھاڑ دیا جائے اور آنکھ پھوڑ دی جائے اور کمزوری کی وجہ سے وہ ریوڑ کے ساتھ نہ چل سکے اور ایسا بوڑھا جانور جس کی ہڈیوں کا گودا ختم ہوچکا ہو منع فرمایا ہے۔