hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 19124

.

سنن البيهقي

19124
Sunan Al Bayhaqi
(١٩١١٨) وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِیرَۃِ حَدَّثَنَا صَفْوَانُ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ خُمَیْرٍ الرَّحَبِیُّ قَالَ : خَرَجَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ بُسْرٍ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - مَعَ النَّاسِ فِی یَوْمِ عِیدٍ فِطْرٍ أَوْ أَضْحَی فَأَنْکَرَ إِبْطَائَ الإمَامِ وَقَالَ : إِنَّا کُنَّا فَرَغْنَا سَاعَتَنَا ہَذِہِ وَذَلِکَ حِینَ التَّسْبِیحِ ۔ وَرُوِّینَا عَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِیِّ : أَنَّ النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - کَانَ یَغْدُو إِلَی الأَضْحَی وَالْفِطْرِ حِینَ تَطْلُعُ الشَّمْسُ فَتَتَامَّ طُلُوعُہَا۔ فَالنَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - کَانَ یُصَلِّی صَلاَۃَ الْعِیدِ فِی أَوَّلِ الْوَقْتِ فَمَنْ کَانَ ذَبَحَ قَبْلَ صَلاَۃِ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَأَکَلَ وَأَطْعَمَ أَہْلَہُ وَجِیرَانَہُ کَمَا رُوِّینَا فِی حَدِیثِ أَبِی بُرْدَۃَ بْنِ نِیَارٍ کَانَ ذَبْحُہُ وَاقِعًا قَبْلَ أَنْ یَحِلَّ وَقْتُہُ وَذَلِکَ لاَ یَجُوزُ فَلِذَلِکَ أَمَرَ بِالإِعَادَۃِ فَمَنْ ضَحَّی بَعْدَ الْوَقْتِ الَّذِی تَحِلُّ فِیہِ الصَّلاَۃُ وَیَمْضِی مِقْدَارُ صَلاَۃِ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَخُطْبَتَیْہِ أَجْزَأَتْ أُضْحِیَّتُہُ إِنْ شَائَ اللَّہُ ۔ [صحیح ]
(١٩١١٨) یزید بن خمیر فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن بسر عید الفطر یا عید الاضحی کے دن لوگوں کے ساتھ نکلے تو امام کے دیر سے آنے کو ناپسند کیا اور کہنے لگے : اس وقت تک تو ہم فارغ ہوچکے ہوتے تھے۔
(ب) حسن بصری (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عیدالاضحی اور عید الفطر کی جانب مکمل سورج طلوع ہوجانے کے بعد نکل آتے اور عید کی نماز اول وقت میں پڑھا دیتے۔ جس نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نماز سے پہلے کھالیا اور اپنے گھر والوں اور ہمسایوں کو کھلایا جیسے ابو بردہ بن نیار کی حدیث میں واضح ہے یہ جائز نہ تھا، اس لیے تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو دوبارہ قربانی کرنے کا حکم دیا۔