(۱۹۱۳) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا الْحُمَیْدِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ قَالَ سَمِعْتُ عَمْرًا یُحَدِّثُ عَنْ عِکْرِمَۃَ بْنِ خَالِدٍ أَنَّہُ سَمِعَہُ یُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ وَاقِدٍ: أَنَّ ابْنَ عُمَرَ کَانَ لاَ یُقِیمُ الصَّلاَۃَ بِأَرْضٍ تُقَامُ بِہَا الصَّلاَۃُ ، وَکَانَ لاَ یُصَلِّی رَکْعَتَیِ الْفَجْرِ فِی السَّفَرِ ، وَکَانَ لاَ یَدَعُہُمَا فِی الْحَضَرِ۔ قِیلَ لِسُفْیَانَ: فَإِنَّ حَمَّادَ بْنَ زَیْدٍ یَقُولُ فِی ہَذَا الْحَدِیثِ أَوْ فِی بَعْضِہِ عَنْ یَزِیدَ الْفَقِیرِ۔ فَقَالَ سُفْیَانُ: مَا سَمِعْتُ عَمْرًا ذَاکِرًا یَزِیدَ الْفَقِیرَ قَطُّ ، مَا قَالَ لَنَا إِلاَّ أَنَّہُ سَمِعَ عِکْرِمَۃَ یَعْنِی ابْنَ خَالِدٍ یُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ وَاقِدٍ۔ [حسن۔ أخرجہ عبد الرزاق ۱۹۶۵]
(١٩١٣) عبداللہ بن واقد سے روایت ہے کہ ابن عمر (رض) ، ایسی زمین پر جماعت نہیں کرواتے جس پر نماز ہو چکی ہو اور وہ سفر میں فجر کی دو رکعتیں بھی نہیں پڑھتے تھے اور ان کو حضر میں نہیں چھوڑتے تھے۔