(۱۹۱۴) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ وَابْنُ أَبِی ذِئْبٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ عَنْ أَبِیہِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- صَلَّی الْمَغْرِبَ وَالْعِشَائَ بِالْمُزْدَلِفَۃِ جَمِیعًا۔ قَالَ ابْنُ أَبِی ذِئْبٍ فِی الْحَدِیثِ: لَمْ یُنَادِ فِی کُلِّ وَاحِدَۃٍ مِنْہُمَا إِلاَّ بِإِقَامَۃٍ ، وَلَمْ یُسَبِّحْ بَیْنَہُمَا وَلاَ عَلَی إِثْرِ وَاحِدَۃٍ مِنْہُمَا۔
أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ آدَمَ عَنِ ابْنِ أَبِی ذِئْبٍ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی عَنْ مَالِکٍ۔
[صحیح۔ أخرجہ البخاری ۱۵۸۹]
(١٩١٤) سالم بن عبداللہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مزدلفہ میں مغرب اور عشا کی نماز اکٹھی پڑھائی۔ ابن أبی ذئب فرماتے ہیں کہ ان دونوں میں سے ہر ایک کے لیے اعلان نہیں کیا مگر اقامت کے ساتھ اور ان کے درمیان نفلی نماز نہیں پڑھی اور نہ ہی ان کے بعد۔