(١٩١٨٧) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِیُّ حَدَّثَنَا مَالِکُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ النَّہْدِیُّ حَدَّثَنَا شَرِیکٌ عَنْ أَبِی الْحَسْنَائِ عَنِ الْحَکَمِ بْنِ عُتَیْبَۃَ عَنْ حَنَشِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ : کَانَ عَلِیُّ بْنُ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یُضَحِّی بِکَبْشٍ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَبِکَبْشٍ عَنْ نَفْسِہِ قُلْنَا لَہُ : یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ تُضَحِّی عَنْ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - أَمَرَنِی أَنْ أُضَحِّیَ عَنْہُ أَبَدًا فَأَنَا أُضَحِّی عَنْہُ أَبَدًا۔ رَوَاہُ أَبُو دَاوُدَ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ عَنْ شَرِیکٍ تَفَرَّدَ بِہِ شَرِیکُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بِإِسْنَادِہِ ۔ وَہُوَ إِنْ ثَبَتَ یَدُلُّ عَلَی جَوَازِ التَّضْحِیَۃِ عَمَّنْ خَرَجَ مِنْ دَارِ الدُّنْیَا مِنَ الْمُسْلِمِینَ وَأَمَّا عَنِ الْحَمْلِ فَقَدْ قَالَ الشَّافِعِیُّ : لاَ یُضَحَّی عَمَّا فِی الْبَطْنِ ۔ [ضعیف ]
(١٩١٨٧) حنش بن حارث فرماتے ہیں کہ حضرت علی بن ابی طالب ایک مینڈھا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ایک اپنی جانب سے قربانن کرتے۔ ہم نے پوچھا : اے امیر المؤمنین ! آپ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جانب سے قربانی کرتے ہیں۔ فرمایا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیشہ مجھے اپنی جانب سے قربانی کرنے کا حکم دیا تھا۔ اس لیے میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جانب سے ہمیشہ قربانی کرتا ہوں۔ وہ شخص جو فوت ہوجائے۔ اس کی جانب سے قربانی کرنا جائز ہے لیکن حاملہ جانور کی قربانی نہ کی جائے۔