(١٩١٩٧) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الأَصْبَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَیَّانَ حَدَّثَنَا ابْنُ نَاجِیَۃَ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ شُعَیْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ سَعِیدٍ عَنِ الْقَاسِمِ یَعْنِی ابْنَ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : أَنَّہَا سَاقَتْ بَدَنَتَیْنِ فَضَلَّتَا فَأَرْسَلَ إِلَیْہَا ابْنُ الزُّبَیْرِ بَدَنَتَیْنِ مَکَانَہُمَا فَنَحَرَتْہُمَا ثُمَّ وَجَدَتِ الأُولَتَیْنِ فَنَحَرَتْہُمَا أَیْضًا ثُمَّ قَالَتْ : ہَکَذَا السُّنَّۃُ فِی الْبُدْنِ ۔ [صحیح ]
(١٩١٩٧) قاسم بن محمد فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ (رض) نے دو قربانیاں روانہ کیں، جو گم ہوگئیں تو عبداللہ بن زبیر (رض) نے ان کی جگہ دو مزید قربانیاں بھیج دیں۔ جو حضرت عائشہ (رض) نے نحر کروا دیں۔ پھر پہلے والے دو قربانی کے جانور بھی مل گئے تو انھیں بھی نحر کروا دیا۔ پھر فرماتی ہیں کہ قربانی کا یہی طریقہ ہے۔