(۱۹۲۱) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ: أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَالِینِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِیٍّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا الْحَکَمُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ حَمْزَۃَ عَنِ الْحَکَمِ عَنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَسْمَائَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((لَیْسَ عَلَی النِّسَائِ أَذَانٌ وَلاَ إِقَامَۃٌ وَلاَ جُمُعَۃٌ ، وَلاَ اغْتِسَالُ جُمُعَۃٍ وَلاَ تَقَدَّمَہُنَّ امْرَأَۃٌ وَلَکِنْ تَقُومُ فِی وَسَطِہِنَّ))۔
ہَکَذَا رَوَاہُ الْحَکَمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأَیْلِیُّ۔ (ج) وَہُوَ ضَعِیفٌ۔
وَرُوِّینَا فِی الأَذَانِ وَالإِقَامَۃِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ مَوْقُوفًا وَمَرْفُوعًا ، وَرَفْعُہُ ضَعِیفٌ ، وَہُوَ قَوْلُ الْحَسَنِ وَابْنِ الْمُسَیَّبِ وَابْنِ سِیرِینَ وَالنَّخَعِیِّ۔ [موضوع]
(١٩٢١) اسماء سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : عورتوں پر اذان اور اقامت نہیں ہے اور نہ ہی جمعہ اور نہ جمعہ کا غسل اور نہ عورت ان کے آگے ہوگی بلکہ ان کے درمیان میں کھڑی ہوگی۔