(١٩٢١٧) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا الضَّحَّاکُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ أَبِی عُبَیْدٍ عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ الأَکْوَعِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَوْمَ الأَضْحَی : مَنْ ضَحَّی مِنْکُمْ فَلاَ یُصْبِحَنَّ فِی بَیْتِہِ مِنْ أُضْحِیَّتِہِ بَعْدَ ثَالِثَۃٍ شَیْئٌ ۔ فَلَمَّا کَانَ الْعَامُ الْمُقْبِلُ قَالُوا : یَا رَسُولَ اللَّہِ نَفْعَلُ فِی ہَذَا الْعَامِ کَمَا فَعَلْنَا فِی الْعَامِ الْمَاضِی۔ فَقَالَ : لاَ کُلُوا وَأَطْعِمُوا وَادَّخِرُوا فَإِنَّ ذَلِکَ الْعَامَ کَانَ فِیہِ شِدَّۃٌ أَوْ کَلِمَۃً تُشْبِہُہَا فَأَرَدْتُ أَنْ تَقْسِمُوا فِی النَّاسِ ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی عَاصِمٍ الضَّحَّاکِ بْنِ مَخْلَدٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ مَنْصُورٍ عَنْ أَبِی عَاصِمٍ وَقَالَ : فَأَرَدْتُ أَنْ یَفْشُوَ فِیہِمْ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
(١٩٢١٧) سلمہ بن اکوع فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قربانی کے دن فرمایا : جس نے قربانی کی تو تیسرے دن کی صبح کے بعد اس کے گھر کوئی چیز موجود نہ ہو۔ جب دوسرا سال آیا تو ہم نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا : کیا پہلے سال کی طرح ہی کریں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کھاؤ، کھلاؤ، ذخیرہ کرو۔ کیونکہ اس سال تنگ دستی تھی یا اس کے مشابہہ کوئی کلمہ کہا۔ میں نے لوگوں کے درمیان گوشت کی تقسیم کو پسند کیا تھا۔
(ب) ابو عاصم کی روایت میں ہے کہ میں لوگوں میں گوشت کو عام دیکھنا چاہتا تھا۔