(۱۹۲۳) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ الْحَارِثِیُّ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَیَّانَ حَدَّثَنَا ابْنُ صَاعِدٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِیمِ الْبَرْقِیُّ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِی سَلَمَۃَ قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ ثَوْبَانَ ہَلْ عَلَی النِّسَائِ إِقَامَۃٌ فَحَدَّثَنِی أَنَّ أَبَاہُ حَدَّثَہُ قَالَ: سَأَلْتُ مَکْحُولاً فَقَالَ: إِذَا أَذَّنَّ فَأَقَمْنَ فَذَلِکَ أَفْضَلُ ، وَإِنْ لَمْ یَزِدْنَ عَلَی الإِقَامَۃِ أَجْزَأَتْ عَنْہُنَّ۔ قَالَ ابْنُ ثَوْبَانَ: وَإِنْ لَمْ یُقِمْنَ ، فَإِنَّ الزُّہْرِیَّ حَدَّثَ عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ: کُنَّا نُصَلِّی بِغَیْرِ إِقَامَۃٍ۔
وَہَذَا إِنْ صَحَّ مَعَ الأَوَّلِ فَلاَ یَتَنَافَیَانِ لِجَوَازِ فِعْلِہَا ذَلِکَ مَرَّۃً وَتَرْکِہَا أُخْرَی لِجَوَازِ الأَمْرَیْنِ جَمِیعًا وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔
وَیُذْکَرُ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ أَنَّہُ قِیلَ لَہُ: أَتُقِیمُ الْمَرْأَۃُ؟ قَالَ: نَعَمْ۔ [ضعیف]
(١٩٢٣) (الف) عروہ بن سلمہ کہتے ہیں کہ میں نے ثوبان سے پوچھا : کیا عورتوں پر اقامت ہے ؟ تو انھوں نے فرمایا : ان کے والدنے مکحول سے نقل کیا کہ وہ اذان دیں اور اقامت کہیں تو یہ افضل ہے اور اقامت سے زیادہ نہ کریں تو یہ ان کو کفایت کر جائے گی ابن ثوبان کہتے ہیں : اگرچہ وہ اقامت نہ کہیں۔
(ب) عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ ہم بغیر اقامت کے نماز پڑھتی تھیں۔